امریکی شہری مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے پر غور کریں، سفارت خانوں کی ہدایت
- 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی
مشرقِ وسطیٰ کے کئی دارالحکومتوں میں قائم امریکی سفارت خانوں نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ خطے میں جاری تنازع کسی بھی وقت ”غیر متوقع شدت“ اختیار کر سکتا ہے، لہٰذا وہ علاقہ چھوڑنے کے لیے تیار رہیں۔
اردن، یروشلم اور بغداد میں امریکی سفارتی مشنز کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے سیکیورٹی الرٹ میں کہا گیا، ”خطے میں موجود امریکی شہری مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے پر غور کریں، یا کشیدگی بڑھنے کی صورت میں فوری روانگی کے لیے تیار رہیں۔“
بیان میں امریکی شہریوں کو اپنی پروازوں سے متعلق معلومات پر نظر رکھنے اور مقامی حکام کی جانب سے جاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی۔
الرٹ میں کہا گیا، ”مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری غیر معمولی احتیاط اور زیادہ چوکس رہیں، کیونکہ پروازوں کی منسوخی، وقتاً فوقتاً فضائی حدود کی بندش اور سفری نظام میں خلل کا امکان موجود ہے۔“
اردن میں موجود امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ امریکی فوجی اڈوں کا رخ نہ کریں، کیونکہ حالیہ دنوں میں ان پر ایرانی میزائل حملے ہوئے ہیں، جبکہ اسرائیل میں امریکی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے قریب ترین بم شیلٹر کا مقام معلوم رکھیں۔
یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا، ”ایرانی حکومت کا طرزِ عمل غیر متوقع ہے، جیسا کہ حالیہ فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے، جن کے تحت اس نے بغیر کسی پیشگی انتباہ یا اشتعال کے خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، اور حملوں کا دائرہ اُن علاقوں تک بھی وسیع کر دیا جو پہلے نشانے پر نہیں تھے، مثلاً مصر۔“
بدھ کے روز مصر کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز امریکی ملکیت کے ایک گیس بردار جہاز پر ڈرون حملہ ہوا، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ مصر اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے، تاہم اب تک کسی گروہ پر حملے کا الزام عائد نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایران کی فوج نے واشنگٹن پر خطے میں ”کشیدگی بڑھانے“ کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ”جو بھی ملک مجرمانہ اور جارح امریکہ کے لیے دفاعی ڈھال بنے گا، وہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔“
رواں ہفتے ایران اور امریکا کے درمیان چند روزہ وقفے کے بعد ایک بار پھر رات کے وقت حملوں کا تبادلہ شروع ہوگیا، تاہم جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کسی نئے حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی، جس کے جواب میں ایران نے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔