ترکیہ اور عراق کے درمیان تیل پائپ لائن کا ایک سالہ معاہدہ طے پا گیا
- ترکیہ کی جیہان بندرگاہ تک جانے والی پائپ لائن کے ذریعے اس وقت یومیہ تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار بیرل خام تیل منتقل کیا جا رہا ہے
ترکیہ اور عراق نے دونوں ممالک کے درمیان خام تیل کی پائپ لائن کے استعمال کو برقرار رکھنے کے لیے ایک سالہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ ترکیہ کے وزیر توانائی الپ ارسلان بایراکتار نے ہفتے کے روز اس کی تصدیق کی ہے۔
اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری دوطرفہ انتظام میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے، جس کی مدت گزشتہ پیر کو ختم ہوگئی تھی۔ اس انتظام کے تحت عراق۔ترکیہ پائپ لائن (آئی ٹی پی) کو چلانے کی اجازت حاصل ہے، جو بغداد کی اس وقت کام کرنے والی واحد خام تیل برآمدی پائپ لائن ہے۔
وزیر توانائی الپ ارسلان بایراکتار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”اس پائپ لائن سے متعلق نئے طویل المدتی معاہدے کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں، تاہم اس دوران ہم نے یومیہ 7 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل کی ترسیل کی گنجائش پر مشتمل یہ ٹرانزٹ انتظام نافذ کر دیا ہے۔“
بایراکتار نے بتایا کہ انقرہ میں عراق کے وزیر تیل اور ان کے وفد کے ساتھ ان کی ثمرآور ملاقات ہوئی، جس کے دوران ترکیہ کی سرکاری توانائی کمپنی بوطاش (بی اوٹی اے ایس) اور عراق کی سرکاری تیل کمپنیوں سومو (ایس او ایم او) اور این او سی ( این او سی) کے درمیان ایک سالہ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
اس توسیع سے دونوں ممالک کو زیادہ جامع اور طویل المدتی معاہدے پر مذاکرات کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔ ترکیہ چاہتا ہے کہ 15 لاکھ بیرل یومیہ گنجائش رکھنے والی اس پائپ لائن کو مکمل صلاحیت کے ساتھ استعمال کیا جائے اور ممکنہ طور پر اسے عراق کے جنوبی تیل کے میدانوں تک بھی توسیع دی جائے۔
ترک اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ترکیہ کی بندرگاہ جیہان تک جانے والی اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار بیرل خام تیل منتقل کیا جا رہا ہے۔