عالمی تجارت کو دو اہم گزرگاہوں کا چیلنج
- 100 ڈالر فی بیرل تک عارضی اضافہ قابلِ برداشت ہے، مگر آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بیک وقت رکاوٹیں تیل کی بلند قیمتوں کو طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتی ہیں
تیل کی عالمی منڈیاں اس سے پہلے بھی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ایسے کئی ادوار دیکھ چکی ہیں، اکثر یہ خدشات جتنی تیزی سے جنم لیتے ہیں،اتنی ہی جلد ختم بھی ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ کار اب اس بات کے عادی ہو چکے ہیں کہ جب تک منڈی میں تیل کی حقیقی سپلائی متاثر نہ ہو، جنگ سے متعلق خبروں کو زیادہ اہمیت نہ دیں لیکن اس بار معاملہ مختلف ہو سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کا تنازع مزید پھیلنے کے ساتھ ہی پچھلے ہفتے برینٹ کروڈ کی قیمت چھ ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو نفسیاتی طور پر اہم ترین حد یعنی 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ رہی ہے۔ابتدائی خطرہ آبنائے ہرمز کے گرد موجود غیر یقینی صورتحال سے پیدا ہوا تھا، جس کے راستے سے عالمی سطح پر تجارت ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے لیکن اب مارکیٹوں کو ایک بالکل مختلف خطرے کا سامنا ہے، جہاں بحری راستے کی ایک دوسری تنگ گزرگاہ بھی خطرے کی زد میں آ گئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اب بھی خطے میں اڑنے والے اگلے میزائل کے رحم و کرم پر ہیں اور اس پیمانے پر صورتحال انتہائی خطرناک بنی ہوئی ہے۔یمن کی حوثی تحریک نے بحیرہ احمر کے جنوبی دہانے پر واقع آبنائے باب المندب سے گزرنے والی جہاز رانی کو دھمکاتے ہوئے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔انتباہات کے بعد ٹینکرز پہلے ہی واپس مڑ چکے ہیں، جبکہ سعودی تیل کے ٹینکرز پر حملوں نے اس امکان کو بڑھا دیا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک اپنی برآمدی گزرگاہوں میں سے ایک میں رکاوٹوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال مکمل منظرنامہ بدل دیتی ہے۔مہینوں تک مارکیٹوں کا یہی خیال تھا کہ اگر آبنائے ہرمز میں پابندیاں لگیں تو بحیرہ احمر ایک متبادل متبادل راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ اب یہ دونوں باہم خطرات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہرمز خلیجی برآمدات کے لیے خطرہ ہے اور باب المندب اس متبادل راستے کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔اس کا نتیجہ صرف یہ نہیں کہ صارفین تک کم تیل پہنچے گا، بلکہ اس سے شپنگ کے اخراجات، انشورنس کے پریمیم، نقل و حمل کے وقت اور بالآخر خام تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی سیاسی خطرے کے پریمیم میں بھی شدید اضافہ ہو جائے گا۔اتنی ہی تشویشناک بات کسی قابلِ اعتبار حل یا خروج کا متبادل نہ ہونا ہے۔
سفارتی سطح پر بات چیت معطل نظر آتی ہے۔ ہر فوجی کشیدگی کا جواب ایک اور کشیدگی سے دیا جا رہا ہے اور مذاکرات فی الحال میز پر موجود نہیں۔ مارکیٹیں اب یہ نہیں پوچھ رہی ہیں کہ آیا کل حالات بہتر ہوں گے یا نہیں۔ وہ تیزی سے اس امکان کو مدنظر رکھ رہی ہیں کہ بلند جغرافیائی سیاسی خطرہ آنے والے ہفتوں بلکہ مہینوں کے لیے ایک نیا معمول بن چکا ہے۔پاکستان کے لیے اس کے اثرات بالکل واضح ہیں۔ خام تیل کی بلند قیمتیں درآمدی بل میں اضافے کا باعث بنیں گی، مہنگائی کے رجحانات کو اس وقت مزید پیچیدہ کریں گی جب قیمتوں کے دباؤ میں استحکام آنا شروع ہوا تھا اور بیرونی کھاتے پر مزید دباؤ ڈالیں گی۔
اگر خوردہ سطح پر قیمتوں میں اضافہ کرنا سیاسی طور پر مشکل ہو جائے تو حکومت کا پٹرولیم لیوی کا ترجیحی ہدف بھی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔یقیناً پاکستان 2022 کے توانائی کے بحران کے مقابلے میں اس بار کافی مضبوط معاشی پوزیشن کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ موجودہ کھاتہ (کرنٹ اکاؤنٹ) بہتر، غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر مضبوط ہیں، ملکی طلب دبی ہوئی ہے اور روپیہ کہیں زیادہ مستحکم ہے۔ یہ تمام عوامل ابتدائی دھچکے کو برداشت کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے لیکن یہ حفاظتی حصار صرف جھٹکوں کو برداشت کرنے کے لیے ہوتے ہیں، طویل مدتی دباؤ کے لیے نہیں۔
100 ڈالر فی بیرل تک عارضی اضافہ تو سنبھالا جا سکتا ہے لیکن آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں پر ایک ساتھ رکاوٹوں کے خطرات کی وجہ سے بلند قیمتوں کا طویل دورانیہ ایک بالکل مختلف صورتحال ہوگی۔مارکیٹ اب محض ضائع شدہ رسد کی قیمت نہیں چکا رہی۔ یہ اس بڑھتے ہوئے امکان کی قیمت ادا کر رہی ہے کہ دنیا کی دو انتہائی اسٹریٹجک توانائی گزرگاہیں ایک ہی وقت میں خطرے کی زد میں رہ سکتی ہیں۔ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جس کے پریمیم کو ختم کرنا انتہائی مشکل ہے۔