پاکستان

میرپور ڈویژن میں ن لیگ کا پلڑا بھاری، 13 میں سے 9 نشستیں جیت لیں

  • ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے باقی 4 نشستیں حاصل کیں
شائع اپ ڈیٹ

غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) کے میرپور ڈویژن میں نمایاں جماعت بن کر ابھری ہے۔ آج نیوز کے مطابق پیر کو ہونے والے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے نتائج میں مسلم لیگ (ن) نے قانون ساز اسمبلی کی 13 میں سے 9 نشستیں اپنے نام کر لیں۔

ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے باقی 4 نشستیں حاصل کیں، جبکہ استحکام پاکستان پارٹی ڈویژن کی کسی بھی نشست پر کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

اہم نتائج کے مطابق ایل اے-ون میرپور سے مسلم لیگ (ن) کے اظہر صادق نے 15,427 ووٹ حاصل کرکے پیپلز پارٹی کے محمد افضل شاہد کو شکست دی، جنہوں نے 9,832 ووٹ حاصل کیے۔

ایل اے-2 میں پیپلز پارٹی کے قاسم مجید 31,378 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے عظیم بخش چوہدری 8,499 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

ایل اے-3 میں پیپلز پارٹی کے یاسر سلطان نے 12,590 ووٹ حاصل کرکے مسلم لیگ (ن) کے چوہدری سعید کو شکست دی، جنہیں 11,081 ووٹ ملے۔

ایل اے-4 میں مسلم لیگ (ن) کے رخسار احمد 22,376 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے صہیب ارشد 15,851 ووٹ حاصل کر سکے۔

سب سے اہم مقابلہ ایل اے-7 میں دیکھنے میں آیا، جہاں مسلم لیگ (ن) کے طارق فاروق نے 37,613 ووٹ حاصل کرکے آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم اور آزاد امیدوار چوہدری انوارالحق کو شکست دی۔

ایل اے-8 کوٹلی میں پیپلز پارٹی کے ظفر اقبال 19,535 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ملک محمد نواز 11,986 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

ایل اے-9 میں مسلم لیگ (ن) کے عمیر نعیم نے 31,080 ووٹ حاصل کرکے پیپلز پارٹی کے جاوید اقبال بڈھانوی کو شکست دی، جنہوں نے 28,509 ووٹ حاصل کیے۔

مسلم لیگ (ن) نے ایل اے-11 میں محمد آصف (26,270 ووٹ) اور ایل اے-12 میں راجہ ریاست (35,168 ووٹ) کی کامیابی کے ذریعے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی۔ راجہ ریاست نے آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری یاسین کو شکست دی، جنہیں 30,320 ووٹ ملے۔

ایل اے-13 کوٹلی میں مسلم لیگ (ن) کے راجہ ایاز احمد خان تقریباً 21 ہزار ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ آئی پی پی کے نثار انصار تقریباً 15 ہزار ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا پہلا مرحلہ انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے تعاون سے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انداز میں منعقد ہوا۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا اور ووٹروں نے پرامن ماحول میں اپنا جمہوری حق استعمال کیا۔ ان کے مطابق سماہنی میں پولنگ میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے والے افراد کو بروقت گرفتار کر لیا گیا۔

اگرچہ مجموعی طور پر پولنگ پرامن رہی، تاہم چند مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔ کوٹلی کے نکیال علاقے میں فائرنگ کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے کارکن مختار یونس جاں بحق جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مختار یونس کے قتل کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ فائرنگ کے واقعے میں مسلم لیگ (ن) کے کارکن ملوث تھے۔