فیڈرل ریزرو کے مانیٹری پالیسی فیصلے کا انتظار، سونے کی قیمتوں میں کمی
- اسپاٹ گولڈ 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,056.03 ڈالر فی اونس پر آ گیا
عالمی منڈی میں منگل کوسونے کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ مانیٹری پالیسی فیصلے کا انتظار ہے۔
اسپاٹ گولڈ 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,056.03 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جبکہ اگست میں فراہمی کے لیے امریکی گولڈ فیوچر بھی 0.5 فیصد گر کر 4,056.70 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔
مارکیٹ پر امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کا بھی اثر رہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کا امکان موجود ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر امریکی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود سعودی عرب، اردن اور عراق نے پیر کو ڈرون حملوں کی اطلاعات دی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
ادھر امریکی ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا، کیونکہ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی میٹنگ میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مضبوط ڈالر کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی طلب متاثر ہوتی ہے۔
فیڈرل ریزرو کا دو روزہ اجلاس منگل سے شروع ہو رہا ہے، جبکہ بدھ کو شرح سود برقرار رکھنے کی توقع ہے۔ تاہم سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق کم از کم 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے امکانات 36.3 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جو ایک ہفتہ قبل 16 فیصد تھے، جبکہ ستمبر کے اجلاس میں شرح سود بڑھنے کے امکانات 81 فیصد تک ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو سے شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں دنیا کی سب سے کم شرح سود ہونی چاہیے۔
دریں اثنا ہانگ کانگ کے ذریعے چین کی خالص سونے کی درآمدات جون میں گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی سے زیادہ رہیں، تاہم مئی کے مقابلے میں ان میں 5 فیصد سے زائد کمی آئی۔ قیمتی دھاتوں کی دیگر منڈیوں میں چاندی 1.7 فیصد، پلاٹینم 0.8 فیصد اور پیلیڈیم 1.5 فیصد سستا ہو گیا۔