مہنگائی اور روپے کی بے قدری، اہم آبی منصوبوں کی لاگت کئی گنا بڑھ گئی
- دیامر بھاشا ڈیم (ڈیم کمپوننٹ) کی لاگت اصل منظور شدہ 479.686 ارب روپے کے مقابلے میں 134 فیصد اضافے کے بعد 1,121.934 ارب روپے (منظوری کے مرحلے میں) تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت آبی وسائل نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے بڑے زیرِ تکمیل پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں مہنگائی، روپے کی قدر میں شدید کمی اور دیگر انتظامی و ساختی عوامل کے باعث کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
وزارت کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم (ڈی بی ڈی)، مہمند ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (پہلا مرحلہ) اور تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کی لاگت میں تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے، شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ، تعمیراتی مدت کے دوران سود، سیکیورٹی اخراجات، اراضی کے حصول سے متعلق تنازعات، سماجی مسائل اور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کے باعث نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم (ڈیم کمپوننٹ) کی لاگت اصل منظور شدہ 479.686 ارب روپے کے مقابلے میں 134 فیصد اضافے کے بعد 1,121.934 ارب روپے (منظوری کے مرحلے میں) تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت کے مطابق اس اضافے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں پی سی-ون میں دسمبر 2016 کے پرانے پرائس انڈیکس کا استعمال، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 105.3 روپے سے کم ہو کر 2025 میں 280 روپے تک آنا، ایم ڈبلیو-ون اور کنسلٹنسی معاہدوں کی نظرثانی شدہ قیمتیں، آئی سی او ایل ڈی کی نئی گائیڈ لائنز کے مطابق ڈیزائن میں تبدیلیاں، تھور پراجیکٹ کالونی، بیرونی سیکیورٹی انتظامات، ہیلی کاپٹر سروسز اور چلاس سیف سٹی پراجیکٹ جیسے اضافی اخراجات شامل ہیں۔
اس منصوبے کی تکمیل کی مدت بھی فروری 2029 سے بڑھا کر دسمبر 2030 کر دی گئی ہے۔
اسی طرح مہمند ڈیم کی لاگت 309.558 ارب روپے سے بڑھ کر 665.743 ارب روپے ہو گئی ہے، جو 115 فیصد اضافہ ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں شرح مبادلہ کا 112.068 روپے فی ڈالر سے بڑھ کر 290 روپے تک جانا، غیر معمولی مہنگائی، سیکیورٹی اخراجات میں اضافہ، ڈیزائن میں تبدیلیاں، ٹھیکیداروں کی بلند بولیاں اور کنسلٹنسی اخراجات میں اضافہ شامل ہیں۔
داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (پہلا مرحلہ) کی لاگت میں سب سے زیادہ 260 فیصد اضافہ ہوا، جو 486.093 ارب روپے سے بڑھ کر 1,737.881 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا تقریباً 90 فیصد حصہ ایسے عوامل کی وجہ سے ہے جن پر قابو پانا ممکن نہیں تھا، جن میں زرمبادلہ کے نقصانات، قیمتوں میں اضافہ، سیکیورٹی ضروریات، سماجی تحفظ کے اخراجات اور تعمیراتی مدت کے دوران سود شامل ہیں۔
اسی طرح تربیلا پانچواں توسیعی منصوبہ بھی 285 فیصد مہنگا ہو گیا ہے، جس کی لاگت 82.360 ارب روپے سے بڑھ کر 316.410 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ وزارت کے مطابق اصل پی سی-ون 2014 کے پرائس انڈیکس پر مبنی تھا، جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 102.543 روپے سے گر کر تقریباً 281 روپے فی ڈالر ہو چکی ہے۔
مزید برآں سول، الیکٹرو مکینیکل (ای اینڈ ایم) اور ٹرانسمیشن معاہدوں پر نظرثانی، ڈیزائن میں بہتری اور منصوبے کی مدت میں توسیع نے بھی لاگت میں اضافہ کیا۔
دوسری جانب گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم (کے- فور) فیز-ون کی لاگت میں بھی 36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجوہات مہنگائی، منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر اور اضافی سیکیورٹی اخراجات ہیں۔
وزارت نے بتایا کہ یہ منصوبہ درآمدی آلات، جیسے پمپس، موٹرز، ایچ آر کوائلز، والوز، مکینیکل سسٹمز اور انسٹرومنٹیشن پر زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے شرح مبادلہ میں 178 روپے سے بڑھ کر 282 روپے فی ڈالر ہونے کا اس کی لاگت پر براہ راست اثر پڑا۔
ادھر آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے اپنی آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں واپڈا کے پن بجلی منصوبوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے شعبے میں گورننس اور لاگت کے انتظام پر سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026