ڈیزائن مقابلے کے لیے فی الحال پی آئی اے سے معاہدہ نہیں ہوا، کینوا
مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان (میناپ) ریجن کے لیے کینوا کے جنرل منیجر احمد اقبال نے بتایا کہ کینوا عالمی سطح پر پاکستانی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ملک گیر ڈیزائن مقابلے کی تیاری کررہا ہے لیکن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے ساتھ ابھی تک کوئی باضابطہ شراکت داری یا معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔ تاہم انہیں امید ہے کہ جلد ہی کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے احمد اقبال نے کہا کہ ملک گیر ڈیزائن مقابلے کے اس اقدام پر گزشتہ چند ماہ سے کام جاری ہے اور اس میں ہر شعبۂ زندگی اور ہر سطح کی مہارت رکھنے والے ڈیزائنرز، خواہ وہ پیشہ ور ہوں یا طلبہ شرکت کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے ہمارے ذہن میں ایک بروقت اور موزوں مثال کے طور پر آئی کیونکہ اس کی ایک بھرپور تاریخ ہے اور وہ اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، اس لیے اس نوعیت کی مہم کے لیے یہ ایک مناسب برانڈ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کینوا نے پی آئی اے کی کری ایٹو ایجنسی کے ساتھ ابتدائی سطح پر بات چیت کی ہے تاہم ایئرلائن کی متعلقہ ٹیم سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
احمد اقبال نے کہا کہ فی الحال پی آئی اے کے ساتھ کسی قسم کی شراکت داری یا معاہدہ طے نہیں پایا۔ کینوا ایسے موزوں شراکت دار کی تلاش کیلئے تیار ہے جو پاکستان کی تخلیقی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنے میں مدد دے سکے۔
یہ وضاحت احمد اقبال کی اس تجویز کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے پی آئی اے کی برانڈ شناخت کو نئے انداز میں تشکیل دینے کے لیے ملک گیر مقابلہ منعقد کرنے اور اس کے اخراجات خود برداشت کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس منصوبے میں پی آئی اے کے لوگو، برانڈ گائیڈ لائنز، طیاروں کی نئی لیوری (بیرونی ڈیزائن و رنگ) اور ری لانچ کے لیے مارکیٹنگ مہم کی تیاری بھی شامل تھی۔
اس تجویز پر سوشل میڈیا پر وسیع بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے طیاروں کے پیچیدہ بیرونی ڈیزائن کے عملی اور آپریشنل اثرات پر سوالات اٹھائے جبکہ دیگر نے ایئرلائن کی بصری شناخت میں پاکستان کے ثقافتی ورثے کو شامل کرنے کے امکان کا خیرمقدم کیا۔
میناپ کے جنرل منیجر نے اپنی پوسٹ کے ساتھ پی آئی اے کے دو طیاروں کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں جن پر اجرک سے متاثر بھرپور رنگوں پر مبنی ڈیزائن نمایاں تھا۔ ان کے بقول یہ ڈیزائن ایک ایسے شخص نے کینوا اور افینیٹی کی مدد سے تیار کیا تھا جو پیشہ ور ڈیزائنر نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ذرا تصور کریں کہ اگر پورا ملک اس میں حصہ لے تو کیا کچھ کر سکتا ہے۔‘
احمد اقبال نے کہا کہ پاکستان کی ڈیزائن ثقافت کی جڑیں ٹیکسٹائل، فنِ تعمیر، زیورات اور روایتی نقش و نگار میں گہری پیوست ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اجرک کا ڈیزائن تقریباً چار سے پانچ ہزار سال قدیم تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقابلہ پاکستانی تخلیق کاروں کو عالمی ناظرین کے لیے ایک منفرد پاکستانی طرزِ ڈیزائن (ڈیزائن لینگویج) کو دریافت کرنے، فروغ دینے اور اجاگر کرنے کا بہترین موقع فراہم کر سکتا ہے۔
دوسری جانب پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے بھی بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس حوالے سے اب تک دونوں اداروں کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوئے۔