دنیا

بھارت میں نوجوان مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذاکرات، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

  • یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی، جس سے اس بحران کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے
شائع اپ ڈیٹ

بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے دوران نوجوانوں کی قیادت میں قائم کاکروچ تحریک کے رہنما آج (جمعہ) حکومت سے مذاکرات کریں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ بات چیت کے باوجود احتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی، جس سے اس بحران کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ہزاروں نوجوان نئی دہلی میں جمع ہیں اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے اسکینڈل پر وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ تحریک وزیر اعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والا سب سے بڑا احتجاج قرار دی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس میں احتجاج کیا ہے۔

تحریک کے ترجمان سورَو داس نے بتایا کہ حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان غیر جانبدار مقام پر مذاکرات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے سامنے اپنے مطالبات تفصیل سے رکھیں گے، تاہم ملک گیر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

ادھر دہلی میں مظاہروں کے پیش نظر حکام نے ایک بار پھر 17 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے، موبائل انٹرنیٹ سروس محدود کر دی اور وسطی دہلی میں سکیورٹی مزید سخت کر دی۔

دوسری جانب وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ امتحانی پرچوں کے لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزاؤں سے متعلق قانون میں ترمیم کے مسودے پر غور کرے گی، تاہم مظاہرین کا مؤقف ہے کہ صرف سزائیں کافی نہیں بلکہ امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں پرچے لیک ہونے کے واقعات روکے جا سکیں۔