وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کو دیے گئے 82 فیصد وزن کو ناقابلِ تسلسل قرار دینا ایک واضح پالیسی تضاد کا بروقت اعتراف ہے جو کافی عرصے سے موجود ہے۔

حکومت تیز رفتار آبادی میں اضافے کو بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتی ہے لیکن وفاقی محصولات کو صوبوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اس کا بنیادی طریقہ کار اب بھی بڑی حد تک صوبوں کی آبادی کے تناسب پر منحصر ہے۔

ساتواں این ایف سی ایوارڈ پہلے کے صرف آبادی پر مبنی فارمولے کے مقابلے میں ایک بہتری تھا۔ اس میں آبادی کو 82 فیصد، غربت یا پسماندگی کو 10.3 فیصد، محصولات جمع کرنے یا پیدا کرنے کو 5 فیصد اور انورس پاپولیشن ڈینسٹی کو 2.7 فیصد وزن دیا گیا۔ تاہم آبادی کو اب بھی اتنی زیادہ اہمیت حاصل ہے کہ دیگر تمام عوامل کا کردار بڑی حد تک معمولی نوعیت کی ایڈجسٹمنٹ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی وزارتِ بہبودِ آبادی کو ختم کر دیا گیا اور آبادی بہبود پروگرام سمیت اس کی خدمات کی فراہمی سے متعلق ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کر دی گئیں۔

لہٰذا خاندانی منصوبہ بندی اور بہبودِ آبادی کے پروگراموں پر عملدرآمد کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جبکہ وفاق کے پاس قومی سطح پر رابطہ کاری، پالیسیوں میں ہم آہنگی اور بین الاقوامی وعدوں سے متعلق امور کی ذمہ داری برقرار ہے۔

تضاد واضح ہے۔ صوبوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ آبادی میں اضافے کو کنٹرول کریں لیکن وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات کو طے کرنے والا بنیادی مالیاتی نظام آبادی کے حجم کو آبادی سے متعلق کارکردگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال پہلے ہی ان صوبوں کے لیے اضافی این ایف سی مراعات کی تجویز دے چکے ہیں جو آبادی کے انتظام میں قابلِ پیمائش بہتری کا مظاہرہ کریں گے۔

اس تضاد کے برقرار رہنے کے لیے کسی صوبائی حکومت کو شعوری طور پر آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت نہیں۔

مسئلہ خود اس فارمولے میں موجود ہے: یہ ماضی میں بڑھنے والی آبادی کے حجم کو مالی فائدہ دیتا ہے لیکن ایسی پالیسیوں کے لیے کوئی مساوی مالی مراعات فراہم نہیں کرتا جو مستقبل میں آبادی کے دباؤ کو کم کریں۔ یہ صورتحال کسی واضح سیاسی حکمتِ عملی کے بغیر بھی ترجیحات کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہے۔

صوبائی حکومتیں مانع حمل سہولیات کی رسائی بڑھانے، بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، بچیوں کو ثانوی تعلیم تک برقرار رکھنے اور خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے سماجی مزاحمت کا سامنا کرنے کی فوری مالی اور سیاسی قیمت برداشت کرتی ہیں۔

کم شرحِ پیدائش کے فوائد بتدریج سامنے آتے ہیں جن میں زیرِ کفالت آبادی کے بوجھ میں کمی، ماؤں اور بچوں کی بہتر صحت، گھرانوں کی بچت میں اضافہ اور عوامی خدمات پر کم دباؤ شامل ہیں۔ تاہم موجودہ این ایف سی فارمولے کے تحت ان میں سے کسی بھی کامیابی پر صوبے کو کوئی الگ مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

یہ فارمولا آبادی کے دباؤ کے ظاہر ہونے کے بعد اس کی مالی معاونت کرتا ہے لیکن حکومتوں کو اس دباؤ کو ناقابلِ انتظام بننے سے پہلے روکنے کی کوششوں پر کوئی انعام نہیں دیتا۔

یہ سادہ الفاظ میں پالیسی کا عدم تسلسل ہے۔ حکومتیں ایک طرف آبادی میں اضافے کو بار بار قومی ہنگامی مسئلہ قرار نہیں دے سکتیں جبکہ دوسری جانب ایسا مالیاتی منتقلی کا نظام برقرار رکھیں جو اس مسئلے سے نمٹنے میں صوبائی کارکردگی سے بڑی حد تک لاتعلق ہو۔

پاکستان کے مثبت امتیازی اقدامات کے نظام میں بھی ایک متعلقہ تضاد نظر آتا ہے۔ پسماندہ علاقوں کو بلاشبہ وفاقی ملازمتوں اور تعلیمی مواقع تک ترجیحی رسائی کی ضرورت ہے لیکن مثبت امتیاز کا مطلب میرٹ کو ترک کرنا نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی وسیع صوبائی و دیہی درجہ بندیاں مستقل انتظامی مراعات بن جانی چاہئیں۔

موجودہ کوٹہ نظام بہت حد تک عمومی نوعیت کا ہے۔ یہ بڑے جغرافیائی علاقوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے ان کے اندر محرومی یکساں طور پر پائی جاتی ہو۔ نتیجتاً بہتر سہولیات رکھنے والے اضلاع کے نسبتاً خوشحال امیدوار بھی ان تحفظات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو دراصل شدید تعلیمی، بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی مشکلات کا سامنا کرنے والی برادریوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

زیادہ قابلِ اعتماد نظام یہ ہوگا کہ شفاف اور وقتاً فوقتاً نظرِثانی کیے جانے والے ترقیاتی اشاریوں کی بنیاد پر پسماندہ اضلاع کی نشاندہی کی جائے۔ اس کے بعد وفاقی ملازمتوں کا ایک مخصوص حصہ ان اضلاع سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے جبکہ انتخاب ہر ضلع یا یکساں طور پر پسماندہ اضلاع کے گروپس کے اندر میرٹ پر مبنی مسابقت کے ذریعے کیا جائے۔

امیدواروں کے لیے قومی سطح پر کم از کم اہلیت کا معیار برقرار رہنا چاہیے۔ کوٹہ صرف مسابقت کے مخصوص دائرے میں داخلے کا راستہ متعین کرے جبکہ اس دائرے کے اندر کامیابی کا فیصلہ امتحانی کارکردگی کی بنیاد پر ہو۔ اس طرح مثبت امتیازی نظام مقابلے کی ابتدا میں موجود عدم مساوات کو دور کرے گا لیکن خود مقابلے کے عمل کو ختم نہیں کرے گا۔

ایسا نظام صوبائی اشرافیہ کی جانب سے کوٹے کے فوائد پر قبضے کے امکانات کو بھی کم کرے گا اور ان برادریوں تک مراعات کی بہتر رسائی یقینی بنائے گا جن کے لیے مثبت امتیازی اقدامات اصل میں متعارف کرائے گئے تھے۔ ڈومیسائل کی اہلیت کا تعین محض بھرتی سے کچھ عرصہ قبل حاصل کیے گئے سرٹیفکیٹ کے بجائے حقیقی رہائش اور تعلیمی پس منظر کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پسماندگی کا درجہ مستقل نہیں ہونا چاہیے۔ اضلاع کی اہلیت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جانا چاہیے اور جیسے جیسے تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور آمدنی کے اشاریوں میں بہتری آئے اضلاع کو خصوصی تحفظ کے دائرے سے باہر نکالا جانا چاہیے۔ بصورتِ دیگر پسماندگی ایک ایسی مالیاتی اور انتظامی مراعت بننے کا خطرہ رکھتی ہے جسے ختم کرنے کے بجائے حکومتوں اور مقامی اشرافیہ کے لیے برقرار رکھنا زیادہ فائدہ مند محسوس ہوسکتا ہے۔

لہٰذا یہی کمزوری پاکستان کے کوٹہ نظام اور این ایف سی دونوں میں موجود ہے: پاکستان آبادی اور محرومی کی بنیاد پر وسائل اور سہولیات فراہم کرتا ہے لیکن ان دونوں میں کمی لانے کی پیش رفت کو مناسب طور پر انعام نہیں دیتا۔

تاہم آبادی کو این ایف سی فارمولے سے مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ مالی منتقلیاں حقیقی شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہوتی ہیں، محض انتظامی اکائیوں کے لیے نہیں۔ زیادہ آبادی والے صوبے کو زیادہ اسکولوں، اسپتالوں، پانی کے نظام، سڑکوں اور امن و امان کی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ آبادی کے عنصر کو کم کرنا، بغیر کسی متبادل حفاظتی اقدامات کے غریب صوبوں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گا، خصوصاً ان علاقوں کو جہاں زیادہ شرحِ پیدائش کا تعلق خود کمزور تعلیمی نظام، ناکافی صحت کی سہولیات اور مانع حمل ذرائع تک محدود رسائی سے ہے۔

لہٰذا حل یہ نہیں کہ صوبوں کو ان کی موجودہ آبادی کی بنیاد پر سزا دی جائے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ پہلے سے موجود آبادی جسے عوامی خدمات درکار ہیں اور مستقبل میں آبادی کے دباؤ کو کم کرنے میں صوبائی کارکردگی کے درمیان واضح فرق کیا جائے۔

آبادی کی بنیاد پر بنیادی مالی تقسیم کا نظام برقرار رہنا چاہیے۔ یہ موجودہ عوامی خدمات کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے جبکہ غربت، پسماندگی، دور دراز علاقوں اور کمزور مالی صلاحیت جیسے عوامل کی بنیاد پر وسائل کی مساوی تقسیم کے معیار کو بھی بدستور شامل رکھا جانا چاہیے۔

اس بنیادی تقسیم کے ساتھ آئندہ این ایف سی ایوارڈ میں آبادی سے متعلق کارکردگی کا ایک الگ جزو شامل کیا جانا چاہیے۔ جو صوبے مسلسل بہتری کا مظاہرہ کریں، انہیں اضافی مالی منتقلیاں دی جانی چاہئیں۔ بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ پیش رفت پر انعام دیا جائے، نہ کہ موجودہ ضرورت کی بنیاد پر سزا دی جائے۔

ایسی کارکردگی کا جائزہ محض اس بنیاد پر نہیں لیا جاسکتا کہ کسی مخصوص سال میں شرحِ پیدائش کم ہوئی یا نہیں۔ شرحِ پیدائش ایک تاخیر سے ظاہر ہونے والا اشاریہ ہے جو نقل مکانی، آبادی کی عمر کے ڈھانچے اور ایسے معاشی حالات سے بھی متاثر ہوتا ہے جو فوری طور پر صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ سادہ عددی اہداف مقرر کرنے سے اعدادوشمار میں ردوبدل کی حوصلہ افزائی بھی ہو سکتی ہے یا اس سے بھی بدتر، خواتین اور غریب گھرانوں کے خلاف زبردستی پر مبنی اقدامات کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

اس کے بجائے کارکردگی کے معیار ان اقدامات کو جانچنے چاہئیں جنہیں حکومتیں براہِ راست یقینی بنا سکتی ہیں: مانع حمل ذرائع کی غیر پوری ضرورت میں کمی، جدید خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کی وسیع دستیابی، بچوں کی پیدائش کے درمیان زیادہ وقفہ، نوعمر حمل میں کمی، زچہ و بچہ کی بہتر صحت کی سہولیات اور لڑکیوں میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے کی شرح میں اضافہ۔ یہ محض آبادی سے متعلق اشاریے نہیں ہیں بلکہ اس بات کی پیمائش کرتے ہیں کہ خواتین اور خاندانوں کو اپنی تولیدی زندگی سے متعلق باخبر فیصلے کرنے کے لیے عملی طور پر کتنی آزادی اور سہولت حاصل ہے۔

کارکردگی کا جائزہ ہر صوبے کی اپنی بیس لائن کے مقابلے میں لیا جانا چاہیے۔ بلوچستان کا براہِ راست پنجاب سے موازنہ کرنا وراثتی برتری کو انعام دینے کے مترادف ہوگا نہ کہ انتظامی کوششوں کو۔ جس صوبے کا آغاز کمزور اشاریوں سے ہوا ہو اسے بہتری لانے پر کریڈٹ ملنا چاہیے، چاہے اس کی مجموعی صورتحال اب بھی قومی اوسط سے کم ہو۔

نئی مراعاتی اسکیم کا آغاز ابتدائی طور پر قابلِ تقسیم محاصل میں اضافے کے ایک حصے سے کیا جانا چاہیے، نہ کہ موجودہ صوبائی حصص میں اچانک کٹوتی کے ذریعے۔ اس سے غریب صوبوں کو فوری مالی نقصان سے تحفظ ملے گا اور وسائل کی تقسیم میں کسی بھی صفر جمع تبدیلی سے پیدا ہونے والی ناگزیر مزاحمت میں بھی کمی آئے گی۔

کسی صوبے کو برائے نام بنیاد پر کم رقم نہیں ملنی چاہیے، تاہم اضافی محصولات کے بڑھتے ہوئے حصے کو آبادی کے انتظام سے متعلق قابلِ پیمائش نتائج کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہیے۔

فنڈز کی فراہمی کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ آبادی سے متعلق پروگرام صوبائی سیکریٹریٹ میں نافذ نہیں ہوتے بلکہ بنیادی صحت مراکز، اسپتالوں، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، اسکولوں، فارمیسیوں اور ضلعی انتظامیہ کے ذریعے عمل میں آتے ہیں۔

لہٰذا کارکردگی سے منسلک گرانٹس کو ضلعی سطح پر قابلِ تصدیق رسائی اور نتائج سے جوڑا جانا چاہیے جبکہ رپورٹنگ کا نظام شفاف اور اس کی آزادانہ تصدیق کا مؤثر طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔

مانع حمل ادویات پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ اور بیرونی مالی معاونت کا حصول مددگار ثابت ہو سکتا ہے لیکن ادارہ جاتی مراعات کے بغیر صرف رقم فراہم کرنے سے وہی روایتی صورتحال پیدا ہوگی جس میں ورکشاپس، خریداری کے عمل اور متاثر کن پریزنٹیشنز تو نظر آتی ہیں مگر عملی نتائج محدود رہتے ہیں۔ آبادی کی پالیسی میں اعلانات کی کمی کبھی نہیں رہی، اصل کمزوری مسلسل عمل درآمد کا فقدان رہا ہے۔

لہٰذا وزیر خزانہ کا یہ مؤقف درست ہے کہ این ایف سی فارمولے کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ تاہم محض آبادی کے وزن میں بڑی کمی کرکے اسے دیگر جامد اشاریوں میں تقسیم کر دینا اصل موقع کو ضائع کر دے گا۔

اصلاح کا مقصد صرف حساب کتاب کو زیادہ پیچیدہ یا جدید دکھانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ صوبائی ترجیحات میں تبدیلی لانا ہونا چاہیے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے سے موجود شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وسائل فراہم کرے لیکن وفاقی وسائل میں زیادہ حصے کے حصول کا تقریباً واحد راستہ آبادی کی تعداد کو نہیں بنانا چاہیے۔

لہٰذا آئندہ این ایف سی ایوارڈ کی بنیاد متعدد عوامل پر ہونی چاہیے جس میں آبادی کو ایک اہم عنصر کے طور پر شامل رکھا جائے لیکن موجودہ صورتحال کی طرح اسے سب سے غالب معیار نہ بنایا جائے۔ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ موجودہ ضروریات کے لیے مالی وسائل کی فراہمی بھی یقینی بنے اور ان صوبوں کو بھی انعام دیا جائے جو تولیدی اختیارات میں توسیع، لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ اور مستقبل میں پیدا ہونے والی ضروریات کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔

پاکستان آبادی میں اضافے کو قومی بقا کے لیے خطرہ قرار دینے کا مؤثر جواز پیش نہیں کر سکتا جبکہ اس کا مالیاتی وفاقی نظام آبادی سے متعلق کارکردگی کو بدستور کسی اور کی ذمہ داری سمجھتا رہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026