کاروبار اور معیشت

امریکی ہنی ویل کی پاکستان کے ریفائنری شعبے کی اپ گریڈیشن کی تجویز

  • وفاقی وزیرِ خزانہ کا ریفائنری شعبے کی جدیدکاری اور توسیع کے لیے ہنی ویل ٹیکنالوجیز کی تجویز کا خیرمقدم
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان امریکی صنعتی گروپ ہنی ویل ٹیکنالوجیز کی اس تجویز پر غور کررہا ہے جس کے تحت ملک کے ریفائنری شعبے کو جدید بنایا جائے گا اور اس کی استعداد میں توسیع کی جائے گی تاکہ مقامی ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ ہو اور درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کیا جاسکے۔

منگل کو جاری بیان کے مطابق یہ پیشرفت واشنگٹن ڈی سی میں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر اور جنرل منیجر بیری گلک مین کی قیادت میں آنے والے وفد کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے ریفائنری شعبے کی جدیدکاری اور توسیع کے لیے ہنی ویل ٹیکنالوجیز کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی مقامی ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کا آئل ریفائننگ شعبہ ایک اسٹریٹجک اہمیت کا حامل مگر چیلنجز سے دوچار شعبہ ہے جس میں پانچ بڑی ریفائنری کمپنیاں پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ (پارکو)، اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے ٹی آر ایل)، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (این آر ایل)، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) اور سنرجیکو شامل ہیں۔

یہ شعبہ بنیادی طور پر فرسودہ ہائیڈرو اسکمنگ ٹیکنالوجی سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے فرنس آئل (ایف او) کی زیادہ مقدار پیدا ہوتی ہے، جو کہ ایک ایسی پروڈکٹ ہے جس کی ملکی سطح پر مانگ میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔

یگر چیلنجز میں ریفائننگ کے کم ہوتے ہوئے مارجنز، توانائی شعبے میں نقدی کا بحران (کریڈٹ کرنچ) اور یورو-5 کے معیار کے مطابق ایندھن تیار کرنے کے لیے اپ گریڈیشن کے لیے سرمائے کی بڑی ضرورت شامل ہے۔

اس کے علاوہ ملاقات میں ہنی ویل کی ٹیکنالوجی اور آلات کے حل کے ساتھ ساتھ امریکی ایگزم بینک ، یو ایس انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن ، ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسیوں اور سرکردہ بین الاقوامی بینکوں کے ذریعے ممکنہ فنانسنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ منصوبہ پاکستان کی توانائی کے تحفظ، صنعتی ترقی اور پائیدار اقتصادی نمو کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔