دنیا

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال، کشیدگی کم کرنے پر زور

  • کویتی وزیر خارجہ کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور
شائع اپ ڈیٹ

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کو اپنے کویتی ہم منصب شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق کویتی وزیر خارجہ نے اپنے ملک پر جاری حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا ایک عبوری معاہدہ ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق شیخ جراح نے خطے میں مکالمے کے فروغ اور استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور مصالحانہ کردار کو بھی سراہا۔

گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے کشیدگی میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے، جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی کے وعدوں پر مکمل عملدرآمد اور ایسی کسی بھی کارروائی سے گریز ضروری ہے جو صورتحال کو مزید کشیدہ کر سکتی ہو۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر مسلسل رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔

دریں اثنا، کویت نے ہفتہ کو الزام عائد کیا کہ ایران نے ایک بجلی و پانی پیدا کرنے والے پلانٹ اور ایک تیل کی تنصیب کو نشانہ بنایا، اور کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکا نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے اہداف پر حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے خلیجی خطے میں امریکا کے اتحادی ممالک پر حملے کیے۔

کویت کی وزارتِ بجلی و پانی نے ایک بیان میں کہا، ”دشمن کے ایک اور حملے میں بجلی اور پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پلانٹ کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔“