پاکستان

این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کے معیار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، محمد اورنگزیب

  • وفاقی بجٹ کے علاوہ ورلڈ بینک بھی آبادی سے متعلق اقدامات کے لیے مالی وسائل فراہم کرے گا، وزیر خزانہ
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی کو دی گئی موجودہ 82 فیصد اہمیت (ویٹیج) اب ”قابلِ عمل“ نہیں رہی۔

انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ چنانچہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے حوالے سے جب بھی این ایف سی پر بات چیت آگے بڑھے گی تو اس فارمولے کا جائزہ لینا اور اس پر نظرِ ثانی کرنا ناگزیر ہوگا۔ واضح رہے کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اور پھر خود صوبوں کے مابین ٹیکسوں کی آمدنی تقسیم کرنے کا ذمہ دار ہے۔ آئین کے تحت مالیاتی تقسیم کا مناسب طریقہ کار وضع کرنے کے لیے ہر پانچ سال بعد این ایف سی کی تشکیل لازمی ہے۔

ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں پہلی بار کثیر العوامل فارمولا اپنایا گیا تھا، جس میں آبادی کی اہمیت کو 100 فیصد سے کم کرکے 82 فیصد کیا گیا تھا اور دیگر عوامل جیسے کہ غربت کی شرح (10.3 فیصد)، ٹیکسوں کی وصولی (5 فیصد) اور کم گنجان آبادی (2.7 فیصد) کو بھی فارمولے کا حصہ بنایا گیا تھا۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد سے بدلتی ہوئی مالیاتی ضروریات اور عدم توازن کو دور کرنے کے لیے نئے ایوارڈ کی تشکیل پر کافی بحث اور مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ دریں اثنا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کو پاکستان کے لیے ”بقا کے مسائل“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے بقا کے ان دو بڑے مسائل کو حل نہ کیا تو جب تک پاکستان اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا، ہم اس صلاحیت اور صلاحیت کے نتائج تک نہیں پہنچ پائیں گے جس کی اس ملک میں امید کی جاتی ہے۔

وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت نے وفاقی بجٹ کے ذریعے فوری اقدامات اٹھائے ہیں جیسے کہ مانع حمل مصنوعات پر سے سیلز ٹیکس کا خاتمہ لیکن ملک کے آبادیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف یہ اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا جیسا کہ میں نے ذکر کیا یہ محض ہنگامی اقدامات ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار نتائج حاصل کرنے کے لیے گہری ساختی اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے واضح اہداف اور باقاعدہ نگرانی کا نظام ہونا چاہیے۔آبادی سے متعلق منصوبوں کی مالی اعانت کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ سالانہ وفاقی بجٹ سے ہٹ کر ورلڈ بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے ذریعے بھی وسائل دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کے حوالے سے کی جانے والی تمام کوششوں اور اقدامات کے لیے تقریباً 600 سے 700 ملین ڈالر سالانہ دستیاب ہوں گے۔