پاکستان

سعودی عرب پر حملے کی مذمت، پاکستان کا غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

  • یمن میں پائیدار امن صرف یمنی قیادت میں سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، پاکستان
شائع اپ ڈیٹ

وزیر اعظم شہباز شریف نے برادر ملک سعودی عرب کے خلاف گزشتہ رات کیے جانے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایک سرکاری بیان میں وزیر اعظم نے ان حملوں کو انتہائی قابلِ مذمت اقدامات قرار دیا جو علاقائی امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے پیر کو سعودی عرب پر میزائل داغنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں حوثیوں نے مملکت پر اپنے زیرِ کنٹرول ہوائی اڈے پر بمباری کا الزام لگایا تھا۔ اس کارروائی سے سعودی عرب اور ایران نواز گروپ کے درمیان گزشتہ چار سال سے جاری جنگ بندی ٹوٹ گئی ہے۔

یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر بتایا کہ سعودی عرب نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے جنوبی خطے کی طرف داغے گئے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ دوسری طرف حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے شہر ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جو کہ یمن کی سرحد سے متصل ایک پہاڑی جنوبی خطے کا دارالحکومت ہے اور جہاں گرمی سے بچنے کے لیے بہت سے سعودی شہری رخ کرتے ہیں۔

مارچ 2022 میں سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حوثی حملوں کے بعد نافذ ہونے والی غیر رسمی جنگ بندی کے بعد سے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی جانب سے قبول کیا جانے والا یہ پہلا حملہ ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نازک وقت میں اسلام آباد مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، سلامتی اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔

اقوامِ متحدہ میں بھی پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور مملکت کی سلامتی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

یمن کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے ڈپٹی مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق یمن کی خود مختاری، آزادی، یکجہتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اسلام آباد کے غیر متزلزل عزم کو دہرایا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہم جڑے ہوئے بحرانوں کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ یمن میں جامع اور پائیدار امن صرف یمنیوں کی قیادت اور ان کی اپنی مرضی کے مطابق سیاسی عمل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، جس کی سہولت کاری اقوامِ متحدہ کرے اور اس میں تمام یمنیوں کی جائز امنگوں کو پورا کیا جائے۔رواں سال کے شروع میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے عثمان جدون نے کہا کہ اس پیش رفت نے ثابت کیا ہے کہ مذاکرات مشکل حالات میں بھی ٹھوس نتائج دے سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے کو آگے بڑھائیں اور ملک گیر پائیدار جنگ بندی اور ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے کام کریں۔

یمن میں انسانی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے نوٹ کیا کہ برسوں کے تنازع نے یمنی عوام کو نقل مکانی، معاشی مشکلات، غذائی عدم تحفظ اور بنیادی خدمات کی تباہی کا شکار کر دیا ہے اور خبردار کیا کہ کسی بھی مزید کشیدگی سے شہریوں کی تکالیف بڑھیں گی اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے عملے، امدادی کارکنوں اور سفارتی عملے کی مسلسل من مانی حراست کے ساتھ ساتھ حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے دفاتر اور اثاثوں پر قبضے کی بھی شدید مذمت کی۔ عثمان جدون نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام زیرِ حراست عملے کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور اقوامِ متحدہ کے عملے، سہولیات اور اثاثوں کے استحقاق اور استثنیٰ کا مکمل احترام کرنے پر زور دیا۔

علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد خطے میں مذاکرات، سفارت کاری، استحکام اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔