✕
کاروبار اور معیشت

محمد ندیم خان پی ٹی سی ایل کے نئے چیف ایگزیکٹو مقرر

  • عبوری چیف ایگزیکٹو کے طور پر ندیم خان کی 14 روزہ مدت مکمل ہونے کے بعد تقرری عمل میں آئی
شائع اپ ڈیٹ

ملک کی سب سے بڑی ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی کمپنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے محمد ندیم خان کو اپنا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کر دیا ہے۔

فہرست شدہ کمپنی نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے نوٹس میں اس تقرری سے آگاہ کیا ہے۔

محمد ندیم خان کو بطور عبوری چیف ایگزیکٹو 14 روز خدمات انجام دینے کے بعد مستقل طور پر کمپنی کا چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا ہے۔

وہ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پی ٹی سی ایل گروپ سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے 2003 میں یوفون میں چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی اور تقریباً دس سال تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں۔

محمد ندیم خان کو 2017 میں پی ٹی سی ایل اور یوفون کا گروپ چیف فنانشل آفیسر (گروپ سی ایف او) مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے کمپنی کی مالیاتی حکمت عملی کی قیادت کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تبدیلی کے عمل کی نگرانی کی، جس میں ٹیلینور پاکستان کا حصول بھی شامل تھا۔

وہ یو مائیکرو فنانس بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی ہیں۔ محمد ندیم خان انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان اور انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اِن انگلینڈ اینڈ ویلز کے رکن ہیں، جبکہ اس وقت انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

پی ٹی سی ایل نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ محمد ندیم خان کمپنی کے وائر لائن نیٹ ورک کی توسیع اور جدیدکاری کی قیادت کریں گے، جس میں فائبرائزیشن اور ملک بھر میں نئی نسل کی ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ وہ کاروباری اداروں (بی ٹو بی) کے شعبے میں کمپنی کی قائدانہ پوزیشن مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی کام کریں گے۔

بیان کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی مربوط آئی سی ٹی کمپنی ہونے کے ناطے پی ٹی سی ایل براڈبینڈ، فائبر انفرااسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز اور سب میرین کیبلز میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی مرکزی حیثیت مزید مستحکم کی جا سکے۔

یہ تقرری حاتم بامتراف کے پی ٹی سی ایل کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد عمل میں آئی۔ وہ گزشتہ پانچ برس سے پی ٹی سی ایل اور یوفون کی قیادت کر رہے تھے اور اب پاکستان ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

مالی سال 2025 کے دوران پی ٹی سی ایل کی مجموعی آمدن میں سالانہ بنیاد پر 12 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ فکسڈ براڈبینڈ، انٹرپرائز، ہول سیل اور موبائل سروسز کی مضبوط کارکردگی رہی۔

اسی عرصے میں کمپنی کا مجموعی آپریٹنگ منافع سالانہ بنیاد پر 216 فیصد بڑھ گیا، جو آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری کا مظہر ہے۔ تاہم سال بھر میں کمپنی کو 9.7 ارب روپے کا خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا، جس کی بنیادی وجہ یوبینک میں پروویژننگ برائے متوقع کریڈٹ نقصانات (ای سی ایل) میں اضافہ تھا، جو پروڈینشل ریگولیشنز میں ترمیم کے بعد کیا گیا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ 31 دسمبر 1995 کو پاکستان میں قائم کی گئی تھی اور یکم جنوری 1996 سے اس نے باقاعدہ کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ کمپنی ملک بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کی مالک اور آپریٹر ہے اور مقامی و بین الاقوامی ٹیلی فون سمیت دیگر مواصلاتی خدمات فراہم کرتی ہے۔

پاکستان نے 2006 میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول 2.6 ارب ڈالر میں اتصالات انٹرنیشنل پاکستان کو فروخت کر کے کمپنی کی نجکاری کی تھی۔ اگرچہ اس معاہدے کو ابتدا میں ایک اہم اصلاحاتی اقدام قرار دیا گیا، تاہم جائیدادوں کی منتقلی سے متعلق تنازع طویل عرصے سے برقرار ہے، جس کے باعث اتصالات اب بھی تقریباً 79 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی ادائیگی روک کر بیٹھی ہے۔