اداریہ

غزہ میں حماس کی اسٹریٹجک تبدیلی

  • غزہ پر تقریباً دو دہائیوں سے انتظام سنبھالنے والے حکومتی ادارے کو حماس کی جانب سے تحلیل کرنے کا فیصلہ ایک اہم سیاسی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

غزہ پر تقریباً دو دہائیوں سے انتظام سنبھالنے والے حکومتی ادارے کو حماس کی جانب سے تحلیل کرنے کا فیصلہ ایک اہم سیاسی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے، اگرچہ یہ اسرائیل فلسطین کے طویل عرصے سے جاری تنازع میں کسی جامع پیش رفت سے اب بھی بہت دور ہے۔

اس اقدام کا مقصد غزہ کی شہری انتظامیہ کو نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے، جو ایک تکنوکریٹک ادارہ ہے اور امریکی ثالثی میں طے پانے والے امن فریم ورک کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ جیسا کہ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے وضاحت کی، تحریک نے یہ قدم قابض قوت کو ہر قسم کا بہانہ فراہم کرنے سے روکنے کے لیے اٹھایا ہے، جو ان کے بقول اپنی جارحیت اور نسل کشی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی ماہ کی تباہ کن جنگ نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے، ضروری خدمات کو مفلوج کر دیا ہے اور 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ایک ایسے انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے جہاں خوراک، پانی، صحت کی سہولیات اور رہائش کی شدید قلت ہے۔

حماس کے نقطۂ نظر سے اپنے حکومتی ادارے کو تحلیل کرنے کا مقصد سیاسی عمل کو آگے بڑھانا اور ساتھ ہی جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت اسرائیل کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کی عدم تکمیل کو نمایاں کرنا ہے۔ اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ وہ معاہدے کی اہم شقوں، خصوصاً این سی اے جی سے متعلق دفعات، پر عمل درآمد کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ کمیٹی بورڈ آف پیس کے تحت قائم کی گئی تھی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد وجود میں آیا۔ معاہدے کے دوسرے مرحلے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ غزہ سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کا تصور پیش کیا گیا تھا۔

اس کے برعکس، مغربی حکومتوں، بالخصوص امریکا، نے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو مؤثر نتائج سے بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے، جبکہ فلسطینیوں پر معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے۔ انخلا کے بجائے اسرائیلی افواج نے اپنی موجودگی میں مزید توسیع کی ہے اور اطلاعات کے مطابق غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 1,072 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جس کے بعد اکتوبر 2023 سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 73,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایسے حالات میں حماس بدستور اپنے ہتھیار ڈالنے کے مطالبات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، مسلح مزاحمت کا خاتمہ ممکن نہیں۔

اسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں حالات کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال بھی انتہائی تشویش ناک ہے، جہاں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی برادریوں کی بے دخلی، اور اسرائیلی افواج و انتہا پسند آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل کے متنازع قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کا یہ بیان کہ ویسٹ بینک میں یہودی قانون سے بالاتر ہیں، اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں آبادکاروں کو اسلحہ فراہم کرنے میں سہولت دینے والی پالیسیوں نے سزا سے استثنیٰ کے بارے میں خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ یہ پالیسیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔

لہٰذا، حماس کے اس اقدام کو کسی فیصلہ کن موڑ کے بجائے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ غزہ کی رسمی حکمرانی چھوڑنے، مگر قبضے کے دوران ہتھیار نہ ڈالنے کے فیصلے کے ذریعے حماس نے سفارتی توجہ کا مرکز اسرائیل کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ امن کی جانب کوئی بھی بامعنی راستہ اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کرے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کی اجازت دے، قبضے اور بستیوں کی توسیع کو برقرار رکھنے والی پالیسیوں کا خاتمہ کرے، اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق سنجیدہ اور قابلِ اعتماد مذاکرات میں شریک ہو۔ علاقائی ثالثوں اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی یقینی بنائیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو اس تنازع کی مسلسل انسانی قیمت اکیلے برداشت کرنے کے لیے تنہا نہ چھوڑا جائے، کیونکہ اس تنازع نے ایک پوری قوم پر بے پناہ مصائب مسلط کر دیے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026