✕
مارکٹس

ٹرمپ کے ایران کی بحری ناکہ بندی بحال کرنے کے اعلان پر تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ

  • برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 3.21 ڈالر، یا 4.22 فیصد اضافے کے ساتھ دوپہر 11 بج کر 4 منٹ (ای ڈی ٹی) / 15:34 جی ایم ٹی پر 79.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہو گئے۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 3.21 ڈالر یا 4.22 فیصد اضافے کے ساتھ 79.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 3.04 ڈالر یا 4.26 فیصد اضافے کے بعد 74.45 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے، دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں ایک مرحلے پر 5 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اعلان امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آیا۔

اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کی اعلیٰ مشترکہ کمان نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں واشنگٹن کی مداخلت قبول نہیں کرے گی، اور امریکا نے اگر ایران کی اجازت کے بغیر اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً 20 فیصد رسد گزرتی تھی۔

جون میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بحری آمدورفت میں کچھ اضافہ ہوا تھا، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث ایک بار پھر اس میں سست روی آ گئی ہے۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنوو کے مطابق، ”اب توجہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے آئل ٹینکروں کی تعداد پر رہے گی، کیونکہ اگر ان کی تعداد کم ہوئی تو پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اس وقت رسد میں تعطل کا خدشہ قیمتوں کو سہارا دے رہا ہے۔“

طویل المدتی تعطل کے خدشات کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے مستقل متبادل تلاش کریں گے۔

گولڈمین ساکس کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں پائپ لائنوں کی گنجائش میں منصوبہ بندی کے مطابق اضافہ ہوا تو 2028 کے اختتام تک خلیجی ممالک کی جنگ سے پہلے کی 60 فیصد سے زائد تیل برآمدات کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

ادارے کے اندازے کے مطابق 2027 کے اختتام تک متبادل پائپ لائنوں کی استعداد میں 38 لاکھ بیرل یومیہ اور 2028 کے اختتام تک مجموعی طور پر 73 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ہو جائے گا، جس سے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی مجموعی مؤثر صلاحیت ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل یومیہ سے تجاوز کر جائے گی۔

عبوری امن معاہدے کے دوران ایران نے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں سمندر میں موجود ایرانی خام تیل کے ذخائر بھی بڑھ گئے، تاہم فروخت کی رفتار سست رہی کیونکہ چین کی آزاد ریفائنریوں نے عراق، متحدہ عرب امارات اور قطر سے نسبتاً سستا خام تیل خریدنا شروع کر دیا۔

ادھر ابوظبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) نے اگست کے لیے اپنے معیاری مربان خام تیل کی سرکاری فروخت قیمت 80.01 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے، جو گزشتہ ماہ 101.48 ڈالر تھی۔

دوسری جانب روسی توانائی کی رسد بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ یوکرین ماسکو کی جنگی مالی معاونت محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یوکرین کی سیکیورٹی سروس کے مطابق اس نے روس کے ستاوروپول ریجن میں ایک آئل ڈپو اور جنوبی کراسنوڈار ریجن کی کاوکاز بندرگاہ پر تیل ذخیرہ کرنے والے تین ٹینکوں کو رات گئے حملوں میں نشانہ بنایا۔

ادھر دو صنعتی ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم، جس کے ذریعے قازقستان کی 80 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں، نے ٹینگیز آئل فیلڈ میں مرمتی کام اور روس سے کم رسد کے باعث گزشتہ ماہ مئی کے مقابلے میں اپنی ترسیل میں 7 فیصد کمی کر دی ہے۔