دنیا

شدید گرمی کی لہر، فرانس نے 3 جوہری ری ایکٹرز بند کر دیے

  • کمپنی کے مطابق یہ اقدام ماحولیاتی تحفظ کے قوانین پر عمل درآمد کے لیے کیا گیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

فرانس میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث ملک کی سب سے بڑی توانائی کمپنی ای ڈی ایف نے اتوار کو تین جوہری ری ایکٹرز عارضی طور پر بند جبکہ مزید آٹھ ری ایکٹرز کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ اقدام ماحولیاتی تحفظ کے قوانین پر عمل درآمد کے لیے کیا گیا ہے تاکہ پہلے ہی شدید گرمی سے گرم ہونے والے دریاؤں میں مزید گرم پانی خارج نہ کیا جائے۔ بند کیے گئے ری ایکٹرز گولفیش، بوجے اور شوز کے جوہری پلانٹس میں واقع ہیں، جو بالترتیب گارون، رون اور میوز دریاؤں کے کنارے قائم ہیں۔

جوہری بجلی گھر ری ایکٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے دریا کا پانی استعمال کرتے ہیں، جو بعد ازاں گرم ہو کر دوبارہ دریا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ شدید گرمی کے دوران اس عمل سے دریاؤں کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے آبی حیات کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

فرانسیسی وزارتِ معیشت نے بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے بوجے پلانٹ کے قریب دریائے رون کے درجہ حرارت کی مقررہ حد میں عارضی نرمی بھی دی ہے، جو 20 جولائی تک مؤثر رہے گی۔

یہ چند ہفتوں کے دوران دوسرا موقع ہے جب شدید گرمی کے باعث فرانس کو جوہری ری ایکٹرز بند کرنا پڑے ہیں۔ ملک میں مئی سے اب تک گرمی کی تیسری شدید لہر جاری ہے، جہاں درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ شدید گرمی کے باعث جنگلات میں آگ، تقریبات کی منسوخی اور سیاحتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، جبکہ ماہرین موسمیاتی تبدیلی کو ان انتہائی موسمی حالات کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔