اینگرو ووپاک کا پہلے ریفریجریٹڈ ایل پی جی درآمدی ٹرمینل کا منصوبہ، فزیبلٹی اسٹڈی شروع
- ایس اینڈ پی گلوبل انرجی کے ساتھ شراکت داری قائم
معروف کیمیکل اور گیس ٹرمینل آپریٹر کمپنی اینگرو ووپاک ٹرمینل لمیٹڈ نے پاکستان میں ریفریجریٹڈ ایل پی جی کی درآمد اور اسٹوریج کے پہلے بنیادی ڈھانچے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی شروع کردی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب ملک بڑھتی ہوئی ایل پی جی طلب اور مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کے باعث توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
منگل کو ایک بیان کے مطابق کمپنی نے ایل پی جی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کیلئے فزیبلٹی کا جائزہ شروع کرنے کی غرض سے ایس اینڈ پی گلوبل انرجی کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
اس مطالعے کے ذریعے ای وی ٹی ایل پاکستان میں ریفریجریٹڈ ایل پی جی کی درآمد اور اسٹوریج کے پہلے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا جائزہ لے گی تاکہ ایل پی جی کی سپلائی چین کو مضبوط اور ملک میں ایل پی جی کی بڑھتی طلب کو پورا کیا جاسکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مجوزہ منصوبے کا مقصد عالمی ایل پی جی مارکیٹوں تک رسائی بہتر بنانا، کارگو کی بڑی مقدار کو سنبھالنے کی صلاحیت پیدا کرنا، اسٹوریج کی گنجائش بڑھانا اور ایل پی جی کی سپلائی چین کو زیادہ مستحکم، قابل اعتماد اور لچکدار بنانا ہے۔
یہ پیشرفت جون 2026 میں پورٹ قاسم اتھارٹی کے ساتھ اپنے نفاذ کے معاہدے کی کامیاب تجدید کے بعد سامنے آئی جس کے تحت ای وی ٹی ای لاپنے آپریشنز کو بڑھانے کے لیے 200 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے۔
بیان کے مطابق بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ایل پی جی پر پاکستان کا انحصار بڑھ رہا ہے جس سے درآمدی اور اسٹوریج کے بہتر بنیادی ڈھانچے کی ضرورت میں اضافہ ہورہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مارکیٹ کے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو آنے والے برسوں میں ایل پی جی کی فراہمی میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس کے پیشِ نظر طویل مدتی توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
اینگرو ووپاک اور اینگرو ایلینگی ٹرمینل لمیٹڈ کے سی ای او سید عمار شاہ نے کہا کہ جیسے جیسے پاکستان کا توانائی کا منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے، ایل پی جی کی سپلائی چین کو مضبوط بنانا اور عالمی ایل پی جی مارکیٹوں تک رسائی کو وسیع کرنا مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
نیدرلینڈز کی رائل ووپک کی عالمی مہارت کو اینگرو کی انجینئرنگ کی صلاحیتوں اور مقامی مارکیٹ کے حرکیات کے فہم کے ساتھ ملا کر ہم اس قابل ہیں کہ ایسا بنیادی ڈھانچہ تیار کریں جو توانائی کی حفاظت کو بہتر بنائے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی حمایت کرے۔
بہت سی ترقی یافتہ معیشتیں پہلے ہی ریفریجریٹڈ ایل پی جی انفرااسٹرکچر اپنا چکی ہیں اور یہ مطالعہ اس بات کا جائزہ لینے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان کس طرح عالمی طریقوں سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی ملک کی طویل مدتی توانائی کی حفاظت اور لچک کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
ای وی ٹی ایل پاکستان کے ایک ممتاز کاروباری ادارے اینگرو کارپوریشن اور نیدرلینڈز کی رائل ووپک (جو کہ دنیا کی سب سے بڑی بلک لیکویڈ اسٹوریج اور ہینڈلنگ کمپنی ہے) کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔ 1997 میں قائم ہونے والی یہ کمپنی پورٹ قاسم پر کیمیکل اسٹوریج اور ہینڈلنگ کے جدید ترین مرکز کے طور پر شروع کی گئی تھی۔
یہ مشترکہ منصوبہ پاکستان کے واحد مربوط بلک لیکویڈ کیمیکل اور ایل پی جی ٹرمینل کے طور پر کام کرتا ہے۔