ٹیکس دہندگان پر بڑھتا بوجھ
- ایف بی آر نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ڈالر کی بنیاد پر ٹیکس وصولیوں میں 86 فیصد اضافے کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے
نسبتاً محدود تعداد میں موجود ٹیکس دہندگان پر ٹیکس کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ڈالر کی بنیاد پر ٹیکس وصولیوں میں 86 فیصد اضافے کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے۔ تاہم ٹیکس نیٹ میں کوئی خاطر خواہ توسیع نہیں ہوئی، کیونکہ نہ تو ٹیکس دہندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور نہ ہی نئے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لایا جا رہا ہے۔ نتیجتاً ٹیکس کا بوجھ بڑھتے ہوئے انداز میں انہی موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہوتا جا رہا ہے۔
ایف بی آر نے گزشتہ مالی سال کے دوران 13 کھرب روپے کی وصولیاں کیں، جو آئی ایم ایف کے تازہ ترین تخمینے سے 500 ارب روپے سے زیادہ کم تھیں اور سابقہ ہدف سے تقریباً ایک کھرب روپے کم رہیں۔ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے یہ شرح 10.2 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔ ڈالر کے حساب سے وصولیوں میں اضافہ بظاہر بہت زیادہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ مالی سال 2022-23 میں روپے کی قدر میں شدید کمی کے باعث بنیاد کم تھی۔ اب یہ اعداد و شمار زیادہ نظر آتے ہیں، جبکہ متعدد ماہرینِ اقتصادیات کا خیال ہے کہ پاکستانی کرنسی اپنی حقیقی قدر سے زیادہ مضبوط دکھائی جا رہی ہے۔ اگر مستقبل میں کرنسی اپنی اصل سطح پر آتی ہے تو ڈالر کی بنیاد پر یہ موازنہ کمزور پڑ سکتا ہے۔
بہت سے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے حسبِ روایت جون کے مہینے میں ایڈوانس ٹیکس ادائیگیوں پر زیادہ زور دیا تاکہ ہدف کے قریب پہنچا جا سکے۔ اب اصل چیلنج مالی سال 2026-27 میں 17 فیصد سے زائد نمو حاصل کرتے ہوئے 15.3 کھرب روپے کی وصولیوں کا ہدف پورا کرنا ہے۔ یہ ہدف اس لیے بھی زیادہ مشکل ہو گیا ہے کہ بعض شعبوں میں ٹیکس شرحوں میں کمی کی گئی ہے، جبکہ کوئی بڑا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور مجموعی شرحوں میں بھی اضافہ نہیں ہوا۔
اس کا نتیجہ موجودہ ٹیکس بنیاد پر مزید دباؤ کی صورت میں نکلے گا۔ معیشت میں مطلوبہ رفتار پیدا نہیں ہو رہی اور ٹیکس وصولیوں میں قدرتی اضافہ محدود رہے گا۔ ایف بی آر ممکنہ طور پر ریکوری کے اقدامات مزید سخت کرے گا، جس کے آثار پہلے ہی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کاروباری طبقہ خوف اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ آمدنی کے ہدف کے حصول کے لیے کوئی واضح ریونیو حکمتِ عملی دکھائی نہیں دیتی۔
ایک اور مسئلہ مختلف اقسام کی آمدنی پر ٹیکس شرحوں کا غیر متوازن نظام ہے۔ بعض آمدنیوں پر صرف 1 فیصد یا اس سے بھی کم ٹیکس عائد ہے، جبکہ بعض صورتوں میں شرح 40 فیصد سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ حکام ڈالر کی آمد بڑھانے کے لیے ہر ممکن رعایت فراہم کر رہے ہیں، چاہے وہ آئی ٹی برآمدات ہوں، فری لانس آمدنی ہو یا بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر۔ لیکن ڈالر کے حصول کی اس دوڑ میں مقامی معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔
باضابطہ (دستاویزی) مقامی شعبہ ایک حد سے زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ معمولی کمی کے باوجود بڑی فارمل کمپنیاں مؤثر طور پر اپنی آمدنی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ ٹیکسوں کی مد میں ادا کر رہی ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ تشکیل دینے کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ کم از کم ٹیکس بعض کاروباروں، خصوصاً ٹیکسٹائل صنعت، کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے اور اس سے اشیا کی برآمدات میں اضافے کی رفتار متاثر ہوگی۔
دستاویزی معیشت کو فروغ دینے کے لیے کوئی مؤثر مہم نظر نہیں آتی۔ مالیاتی اہداف کا ایک حصہ صوبوں سے تقریباً ایک کھرب روپے کے گرانٹس حاصل کرکے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے صوبوں پر اپنی آمدنی بڑھانے کا دباؤ بڑھے گا، اور خدمات پر سیلز ٹیکس کے حوالے سے ان کا دباؤ پہلے ہی بعض کاروباروں کو محسوس ہو رہا ہے۔
کاروباری برادری شدید دباؤ میں ہے۔ انہیں نہ صرف اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکسوں کی صورت میں دینا پڑ رہا ہے بلکہ ٹیکس معاملات سے نمٹنے کے لیے زیادہ وقت بھی صرف کرنا پڑتا ہے، جس سے پیداواری صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ مجموعی کاروباری ماحول منفی ہے اور غیر ضروری دباؤ سرمایہ کاری کو دور رکھے ہوئے ہے۔
امکان یہی ہے کہ رواں مالی سال میں صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیں آئے گی، کیونکہ دسمبر 2026 تک ایف بی آر کے محصولات کا ہدف غالباً آئی ایم ایف کی ایک لازمی اور فیصلہ کن شرط بن جائے گا۔ اس سال دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ حکومت کو اپنی حکمتِ عملی پر ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انتہائی ضروری سرمایہ کاری کم رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ ملکی بچتوں کا بڑا حصہ حکومت جذب کرتی رہے گی، جہاں اخراجات کا نظام اب بھی غیر مؤثر سمجھا جاتا ہے۔