آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر حملے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
- برینٹ خام تیل کے سودے 76 سینٹس یا 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 72.75 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر حملوں کی رپورٹس کے بعد سپلائی معطل ہونے کے خدشات کے باعث منگل کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
برینٹ خام تیل کے سودے 76 سینٹس (1.1 فیصد) اضافے کے ساتھ 72.75 ڈالر جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 73 سینٹس بڑھ کر 69.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
ذرائع کے مطابق رات گئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے آبنائے ہرمز کے قریب قطر کا ایک ایل این جی ٹینکر اور سعودی عرب کا خام تیل لے جانے والا جہاز متاثر ہوئے ہیں۔ قطر کے وزراتِ خارجہ نے حملے کی تمام تر قانونی ذمہ داری تہران پر عائد کی ہے۔ دوسری طرف یوکرین نے بھی روس کے شیڈو فلیٹ کے 8 آئل ٹینکرز پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولی ہینسن کے مطابق ان واقعات نے مارکیٹ میں جیو پولیٹیکل رسک پریمیم دوبارہ بڑھا دیا ہے اور کشیدگی مزید بڑھنے کی صورت میں قیمت اگلا ہدف 75 اور پھر 80 ڈالر تک چھو سکتی ہے۔ دوسری جانب سوسیٹی جنرل بینک نے سست طلب کے باعث چوتھی سہ ماہی کے لیے تیل کی متوقع قیمت 83 ڈالر سے کم کرکے 75 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔ اس دوران سعودی عرب آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے بحیرہ احمر تک متبادل پائپ لائن کی گنجائش بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔