رائے

ایس او ای اصلاحات : پاکستان ریلویز قومی شہ رگ سے خسارے تک کا سفر

  • پاکستان نے ریل کو محض ایسا محکمہ سمجھا جسے سبسڈی دی جائے جبکہ بھارت نے اسے معاشی شہ رگ کے طور پر دیکھا، بھارتی ماڈل ثابت کرتا ہے کہ ریل کو معاشی محور بنانے سے شاندار نتائج ملتے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات پر مبنی دس اقساط پر مشتمل سلسلے کا یہ چھٹا مضمون ہے۔ گزشتہ پانچ مضامین میں تنظیمی ڈھانچے، اصلاحات نہ ہونے کے نتائج، نجکاری کے حق میں ٹھوس دلائل، کامیاب سودوں اور ان ناکام سودوں کا جائزہ لیا گیا جن کا خمیازہ ملک آج بھی بھگت رہا ہے۔

یہ مضمون اور اس سے اگلی قسط دو ہم عصر کیسز کا تفصیلی احاطہ کرتی ہے۔ پاکستان ریلویز کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ تین دہائیوں تک اصلاحات کو مؤخر کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے، جبکہ اگلے مضمون میں زیرِ بحث آنے والی پی آئی اے یہ بتاتی ہے کہ جب بالآخر اصلاحات پر عمل درآمد کر لیا جائے تو کیا کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔آخری تین مضامین حاصل شدہ اسباق کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے مستقبل کا لائحہ عمل واضح کریں گے۔

جون 2026ء میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے مالیاتی سال 25-2024 کے لیے پاکستان ریلویز کے آڈٹ مشاہدات جاری کیے۔ یہ اعداد و شمار انتہائی تشویشناک تھے، لیکن آڈٹ رپورٹ اصل مسئلے کی سنگینی کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتی۔ یہ صرف اس نقصان کو سامنے لاتی ہے جو ایک کمزور محکمانہ اکاؤنٹنگ سسٹم کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔ اصل اور بڑا مسئلہ ادارہ جاتی ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے پہلی بار پاکستان ریلویز کو کارپوریٹ شکل دینے کی سفارش کے تقریباً تین دہائیوں بعد بھی وہ بنیادی فیصلہ نہیں کیا جا سکا جس پر تمام سنجیدہ اصلاحات کا انحصار ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان ریلویز کو مالیاتی سال 25-2024 میں 61 ارب روپے کا خالص نقصان اٹھانا پڑا، جس میں ایک سال کے دوران 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 153 ارب روپے کے آپریٹنگ اخراجات کے مقابلے میں آمدن محض 92.7 ارب روپے رہی۔ وفاقی خزانے کو گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 64 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ پانچ برس کے دوران آپریٹنگ اخراجات میں 60 فیصد اور آپریشنل نقصانات میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان ریلویز کی جانب سے خود کوئی آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے شائع نہیں کیے جاتے، نہ تو وزارت ریلوے اور نہ ہی کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس ریلویز کے لیے الگ سے مالیاتی گوشوارے جاری کرتے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کے مشاہدات بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ کے معیار (آئی ایف آر ایس) یا بین الاقوامی پبلک سیکٹر اکاؤنٹنگ معیارات (آئی پی ایس اے ایس) کے مطابق تیار کردہ مالیاتی گوشواروں پر نہیں، بلکہ محکمانہ اکاؤنٹنگ ریکارڈ پر مبنی ہیں۔ یہ سالانہ کیش فلو اور آڈٹ اعتراضات کو تو ظاہر کرتے ہیں لیکن مجموعی معاشی لاگت کا احاطہ نہیں کرتے۔

پاکستان ریلویز کوئی کارپوریٹ ادارہ نہیں ہے بلکہ وزارتِ ریلوے کا ایک ذیلی محکمہ ہے، اس کا کوئی بورڈ آف ڈائریکٹرز ہے، نہ کوئی کارپوریٹ سی ای او، نہ ہی کوئی سالانہ رپورٹ اور معتبر معیارات کے تحت آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے دستیاب ہیں۔ اس پر اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (ایس او ای ) ایکٹ 2023 لاگو نہیں ہوتا اور سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ تجارتی سرکاری اداروں کے پورٹ فولیو کے طور پر اس کی نگرانی نہیں کرتا۔

نومبر 2023ء میں حکومت نے آئی ایم ایف کی ساختی شرائط کے تحت چار دیگر اداروں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، پاکستان پوسٹ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی ) کو ایس او ای ایکٹ کے دائرہ کار میں شامل کیا لیکن دہائیوں سے عوامی وسائل کا ایک بڑا حصہ نگلنے والے سب سے بڑے آپریشنز میں سے ایک ہونے کے باوجود پاکستان ریلویز اس فہرست سے غائب رہا۔ پاکستان ریلویز کے پاس لگ بھگ 515 ارب روپے کے رپورٹ شدہ اثاثے، 68 ہزار سے زائد ملازمین اور 1 لاکھ 21 ہزار سے زائد پنشنرز ہیں لیکن اس کے باوجود اسے اب بھی ایک روایتی محکمے کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔

61 ارب روپے کا سالانہ نقصان اصل لاگت کو کم کرکے دکھاتا ہے۔ تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اس بوجھ میں آپریشنل نقصانات، وفاقی گرانٹس، اثاثوں کی فرسودگی کو کم ظاہر کرنا، پنشن کے غیر فنڈڈ واجبات، اوور ڈرافٹ اور غیر ملکی قرضوں پر سود اور ذیلی معاشی منافع دینے والے انفرااسٹرکچر کی موقع کی لاگت شامل ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ٹیکس دہندگان پر پڑنے والی یہ مجموعی لاگت آرام سے 2 ٹریلین (20 کھرب) روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اس کا وسیع تر معاشی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان نے صرف اس سال کے خسارے کو پورا نہیں کیا بلکہ دہائیوں کی ادارہ جاتی بے حسی اور سستی کی قیمت چکائی ہے۔

پاکستان نے صفر سے شروعات نہیں کی تھی۔ پاکستان ریلویز کا زیادہ تر مادی ڈھانچہ تقسیمِ ہند کے وقت ورثے میں ملا تھا، جس میں ٹرنک لائنز، بڑے اسٹیشنز، ورکشاپس، پل اوراسٹریٹیجک راہداریاں شامل تھیں۔ ناکامی یہ نہیں تھی کہ پاکستان کے پاس ریلوے کا نظام موجود نہیں تھا، بلکہ ناکامی یہ تھی کہ اس کو جدید بنانے، اس کی توسیع کرنے اور اسے تجارتی طور پر دوبارہ فعال کرنے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔اس کے برعکس پاکستان نے موٹروے کو ترجیح دینے کا ترقیاتی ماڈل منتخب کیا۔ موٹرویز افادیت کی حامل ضرور ہیں لیکن وہ مال برداری کے ایک جدید ریلوے نظام کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ سڑک کے ذریعے مال برداری میں ایندھن کا استعمال زیادہ ہوتا ہے، یہ بھاری سامان کے لیے زیادہ مہنگی ہے، سڑک کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچاتی اور طویل فاصلے کی نقل و حمل کے لیے ریل کے مقابلے میں کم کارآمد ہے۔اگر یہی عوامی سرمایہ کاری ٹریک کو اپ گریڈ کرنے، نئے انجن خریدنے، سگنلنگ سسٹم کو جدید بنانے، مال بردار ویگنوں کی تعداد بڑھانے، کنٹینر ٹرمینلز کی تعمیر اور مال برداری کے لیے مخصوص راہداریاں بنانے پر لگائی جاتی تو نتائج مختلف ہوتے۔ ایک جدید فریٹ ریلوے سی پیک کے کارگو، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، بندرگاہوں کے مابین رابطے، صنعتی زونز اور علاقائی لاجسٹکس کو بہترین تعاون فراہم کر سکتی تھی۔ پاکستان کا جغرافیہ اس کا سب سے بڑا غیر استعمال شدہ معاشی اثاثہ ہے اور اس سے مالی فائدہ اٹھانے کے لیے ایک فعال ریلوے نظام مرکزی اہمیت کا حامل ہونا چاہیے تھا لیکن اس اسٹریٹیجک ڈھانچے کو زوال کا شکار ہونے دیا گیا۔

دوسری جانب بھارتی ریلویز کا نظام بھی مثالی نہیں ہے لیکن یہ واضح کرتا ہے کہ جب ریل کو قومی معاشی حکمتِ عملی کا محور بنا کر رکھا جائے تو کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ بھارتی ریلویز بھی سرکاری ملکیت میں ہے اور سماجی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔ اس کے باوجود مالیاتی سال 25 -2024 میں اس کا روٹ نیٹ ورک 69,439 کلومیٹر تھا، جس پر روزانہ 13,940 مسافر اور 11,631 مال بردار گاڑیاں چلیں، اور اس نے تقریباً 7.29 ارب مسافروں اور 1.61 ارب ٹن سے زائد تجارتی سامان کی ترسیل کی۔اسی طرح مالیاتی سال 25-2024 میں اس کا تخمینہ شدہ ٹرن اوور تقریباً 31.3 ارب امریکی ڈالر تھا۔ مجموعی آمدنی کا تقریباً 65 فیصد حصہ مال برداری سے حاصل ہوا۔ خالص منافع تقریباً 315 ملین امریکی ڈالر کے ساتھ معمولی تھا اور آپریٹنگ ریشو 98.22 فیصد رہا ، جو اگرچہ بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں، لیکن پھر بھی یہ گرانٹس اور پبلک اکاؤنٹس کی عدم موجودگی پر چلنے والے کسی محکمے کے بجائے ایک فعال ریلوے معیشت کو ظاہر کرتا ہے۔ مالیاتی سال 26-2025 کے لیے بھارتی ریلویز کا سالانہ ترقیاتی بجٹ تقریباً 31.4 ارب امریکی ڈالر مقرر کیا گیا تھا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت اب بھی ریل کو معاشی انفرااسٹرکچر کے طور پر دیکھتا ہے، محض سبسڈی حاصل کرنے والا ادارہ نہیں سمجھتا۔

اس کا اثر صرف ریلوے کے کھاتوں تک محدود نہیں رہتا۔ ریل کے ذریعے کوئلہ، لوہا، سیمنٹ، اسٹیل، اناج، کھاد، منرل آئل اور کنٹینرز منتقل کیے جاتے ہیں ، جو زراعت، صنعت، تعمیرات اور توانائی کی بنیادی ضرورت ہیں۔ یہ لاجسٹکس کی لاگت کو کم کرتا ہے، صنعتی مسابقت کو بڑھاتا ہے، ایندھن کے درآمدی بل کا دباؤ کم کرتا اور پیداواری مراکز کو بندرگاہوں اور مارکیٹوں سے جوڑتا ہے۔ سال 26-2025 میں، بھارتی ریلویز نے ریکارڈ 1.67 ارب ٹن مال برداری اور 7.4 ارب مسافروں کی منتقلی رپورٹ کی۔ پاکستان کو بھارت کے ماڈل کی ہو بہو نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اسے اس ترجیح سے سیکھنا چاہیے جو بھارت معاشی حکمتِ عملی کے تحت ریلویز کو دیتا ہے۔ پاکستان نے ریل کو محض ایک ایسا محکمہ سمجھا جسے سبسڈی دی جائے، جبکہ بھارت نے اسے معاشی شہ رگ کے طور پر دیکھا۔

پاکستان ریلویز کو اب کسی نئے بحالی کے نعرے کی نہیں، بلکہ ایک مکمل ادارہ جاتی اوور ہال (ری سیٹ) کی ضرورت ہے۔ کارپوریٹ شکل دینا پہلا قدم ہے۔ ریلویز کو ایک مناسب گورننس فریم ورک کے تحت لایا جانا چاہیے جس میں ایک پیشہ ور بورڈ، آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے، سالانہ رپورٹ، اثاثوں کے شفاف رجسٹر، کارکردگی کے معاہدے اور تجارتی آپریشنز و عوامی خدمات کی ذمہ داریوں کے درمیان واضح تفریق ہو۔اس کے بعد اس کے افعال کو الگ کیا جانا چاہیے۔ ٹریک انفرااسٹرکچر، فریٹ آپریشنز، مسافر خدمات، ورکشاپس، اسٹیشنز، اراضی اور لاجسٹکس کو ایک ہی محکمے کے تحت نہیں چلایا جانا چاہیے۔ مال برداری (فریٹ) کو تجارتی ترجیح بنانا ہوگا۔ خسارے میں چلنے والی مسافر سروسز کو عوامی خدمت کی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے اور ان کی فنڈنگ بجٹ کے ذریعے کی جائے۔ ریلوے کی زمین کو صرف شفاف قیمت کے تعین، مسابقتی بولی اور حاصل شدہ رقم کے مخصوص استعمال کے ذریعے ہی ڈیولپ کیا جانا چاہیے۔جہاں کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہو، وہاں نجی سرمائے کو شامل کیا جانا چاہیے، جیسے کہ فریٹ کوریڈورز، ٹرمینلز، لاجسٹکس پارکس، اسٹیشنوں کی ترقی، رولنگ اسٹاک، ورکشاپس اور دیگر غیر بنیادی خدمات۔ مقصد محض نجکاری برائے نجکاری نہیں، بلکہ تجارتی ڈسپلن، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور احتساب کو متعارف کرانا ہے۔

تقریباً تین دہائیوں تک پاکستان نے ریلویز کو کارپوریٹ شکل دینے کا بنیادی ادارہ جاتی فیصلہ مؤخر کیا۔ اس کا نتیجہ سالانہ نقصانات، گرانٹس، پنشن کے واجبات، بوسیدہ اثاثوں، مال برداری کی کمزور کارکردگی اور علاقائی لاجسٹکس کے ضائع ہونے والے مواقع کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ پاکستان ریلویز محض ایک خسارے میں چلنے والا محکمہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اسٹریٹیجک قومی اثاثے میں اصلاحات سے انکار کی قیمت ہے۔ جب تک اسے کارپوریٹ شکل دے کر اس کی ازسرِنو تشکیل نہیں کی جاتی، ہر سال انہی مانوس اعداد و شمار کے ساتھ آڈٹ مشاہدات سامنے آتے رہیں گے اور وفاقی خزانہ اس کا بوجھ اٹھاتا رہے گا۔

اگلا مضمون پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا جائزہ پیش کرے گا، ایک ایسا سرکاری ادارہ جہاں اصلاحات میں بہت زیادہ تاخیر کی گئی، لیکن بالآخر ریاست نے اس پر ایکشن لینا شروع کر دیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026ء