2030 تک پاکستان کو 331 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ درکارہوگی، اسٹیٹ بینک
- یہ رقم ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 10 فیصد یا اوسطاً 47 ارب ڈالر سالانہ کے برابر بنتی ہے
موسمیاتی خطرات میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان کو 2024 سے 2030 کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، معیشت کو محفوظ بنانے اور قدرتی آفات کے اثرات کم کرنے کے لیے 331 ارب امریکی ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ درکار ہوگی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ رقم ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 10 فیصد یا اوسطاً 47 ارب ڈالر سالانہ کے برابر بنتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کلائمیٹ پالیسی انیشی ایٹو (سی پی آئی) کے تخمینوں کے مطابق پاکستان 1995 سے 2024 کے دوران موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 15 ممالک میں شامل رہا۔ اگرچہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے اسے شدید معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت پاکستان نے 2030 تک موسمیاتی لحاظ سے محفوظ ترقی اور قومی موسمیاتی اہداف (این ڈی سیز) کے حصول کے لیے 200 سے 348 ارب ڈالر کی مالی ضرورت کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ پاکستان کلائمیٹ پراسپیرٹی پلان کے تحت 2050 تک مختلف منصوبوں اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے لیے 1.6 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق 2025 تک موسمیاتی آفات سے پاکستان کو مجموعی طور پر 58.8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے۔ 1992 سے 2021 کے دوران نقصانات 29.3 ارب ڈالر رہے، جبکہ 2022 کے سیلاب سے 28 ارب ڈالر اور 2025 کے سیلاب سے 1.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کو اوسطاً 1.4 سے 2 ارب ڈالر سالانہ کلائمیٹ فنانس حاصل ہوئی، جبکہ 2021 میں یہ رقم تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچی، جو ملک کی ضروریات کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کلائمیٹ فنانسنگ کی کمی کی بڑی وجوہات میں معاشی عدم استحکام، زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ، سیاسی غیر یقینی صورتحال، بلند خودمختار مالیاتی خطرات، کمزور مالیاتی منڈیاں اور مؤثر ادارہ جاتی و ریگولیٹری نظام کا فقدان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ موسمیاتی منصوبوں کی مؤثر تیاری اور پائپ لائن کی کمی بھی بین الاقوامی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بروقت سرمایہ کاری نہ کی گئی تو 2050 تک موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کی جی ڈی پی میں 4.5 سے 6.5 فیصد تک کمی آ سکتی ہے، جبکہ بدترین صورتحال میں یہ کمی 7 سے 9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جس سے زراعت اور صنعت کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026