دنیا

مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی خلاف ورزی کا امریکا کو بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران

  • امن مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی پر امریکا کو فیصلہ کن جوابی کارروائی کا سامنا ہوگا، تہران کا انتباہ
شائع June 30, 2026 اپ ڈیٹ June 30, 2026 08:07pm

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز کہا ہے کہ اگر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کی تو ایران اس کا جواب دے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے وفود معاہدے پر بالواسطہ مذاکرات کے لیے قطر پہنچنے والے تھے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، ”ہم کسی بھی اقدام کو بلا جواب نہیں چھوڑیں گے۔ ایران کی طاقتور مسلح افواج پہلے ہی ثابت کر چکی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔“

انہوں نے مزید کہا، ”اس نوعیت کے اقدامات مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 1 کی خلاف ورزی تصور ہوں گے۔ ظاہر ہے، اگر ایسی خلاف ورزیاں دہرائی گئیں اور یہ سلسلہ جاری رہا تو اس عمل کو آگے بڑھانے میں مشکلات پیش آئیں گی۔“

ایرانی وزارتِ خارجہ نے خلیجی ملک میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی منصوبہ بندی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران بدھ کو ثالث قطر کے ساتھ اپنے منجمد اثاثوں کے حوالے سے بات چیت کرے گا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ دوحہ میں جو کچھ ہونے کی توقع ہے، ممکنہ طور پر کل وہ مفاہمت کی یادداشت کی شقوں پر عملدرآمد کے حوالے سے بات چیت ہوگی، جس میں ایران کے پابندیوں کا شکار اثاثوں کی رہائی سے متعلق شق بھی شامل ہے اور یہ گفتگو قطری فریق کے ساتھ ہوگی۔

اسماعیل بقائی کا اشارہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کے ایک اہم حصے کی طرف تھا، جس کے تحت امریکی پابندیوں کے باعث بیرونِ ملک بلاک کیے گئے ایرانی فنڈز کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ ایران اس تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو ان اثاثوں کے ایک حصے کی رہائی سے مشروط کر رہا ہے۔

پہلے سے دستخط شدہ نام نہاد مفاہمت کی یادداشت کے تحت طے پانے والے عناصر میں امریکہ کا یہ عزم بھی شامل ہے کہ وہ بالآخر تہران کے خلاف تمام اقسام کی پابندیاں ختم کرے گا اور ایران کے منجمد یا پابندیوں کا شکار فنڈز اور اثاثوں کو استعمال کے لیے مکمل طور پر دستیاب بنائے گا۔

ایران کو 1979 کے اسلامی انقلاب، جس نے شاہ محمد رضا پہلوی کا تختہ الٹ دیا تھا، کے بعد سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے اثاثوں کی منجمدگی اور سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ اگرچہ منجمد ایرانی اثاثوں کی کل مالیت کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، تاہم میڈیا رپورٹس میں یہ رقم 100 ارب سے 123 ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔