رائے

گورننس میں نئی راہیں ہموار کرنا

  • صرف ٹیکنالوجی تبدیلی نہیں لا سکتی۔ حقیقی تبدیلی وہ لوگ لاتے ہیں جنہیں سوچنے، تجربہ کرنے، سیکھنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ مستقبل کے کامیاب ادارے وہ نہیں ہوں گے جن کے پاس سب سے زیادہ قواعد و ضوابط ہوں، بلکہ وہ ہوں گے جن میں سیکھنے، خود کو بدلنے اور حالات سے ہم آہنگ ہونے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہوگی
شائع June 30, 2026 اپ ڈیٹ June 30, 2026 04:56pm

فیفا ورلڈ کپ ہمیشہ سے بہترین کارکردگی، جدت اور عالمی تعاون کی علامت رہا ہے۔ 2026 فیفا ورلڈ کپ کے لیے فیفا نے ٹریونڈا متعارف کرائی، جو اب تک تیار کی جانے والی جدید ترین اور ٹیکنالوجی سے آراستہ فٹ بالز میں شمار ہوتی ہے۔

بظاہر ٹریونڈا ایک عام فٹ بال دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ذہین اور باہم مربوط گیند ہے، جس میں ایسے سینسرز نصب ہیں جو ہر سیکنڈ میں سینکڑوں بار اس کی حرکت کا ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ریفریز کو زیادہ درست فیصلے کرنے، سیمی آٹومیٹڈ آف سائیڈ نظام کو مؤثر بنانے اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کو حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گیند میں الیکٹرانک پرزے اور مواصلاتی نظام نصب ہونے کی وجہ سے اسے میچ سے پہلے چارج بھی کرنا پڑتا ہے۔

اس کا جدید ڈیزائن نہ صرف گیند کی پرواز، درستگی اور مجموعی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ کھیل کے دوران مسلسل قیمتی ڈیٹا بھی فراہم کرتا رہتا ہے۔ پاکستانیوں کے لیے اس سے بھی زیادہ باعثِ فخر بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی کئی فٹ بالز سیالکوٹ میں تیار کی جاتی ہیں، جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ روایتی دستکاری کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرکے عالمی معیار کی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔

”ٹریونڈا“ دو الفاظ، ”ٹری“ (تین) اور ”اونڈا“ (ہسپانوی زبان میں ”لہر“)، سے مل کر بنایا گیا ہے، جو تین میزبان ممالک،کینیڈا، میکسیکو اور امریکا، کے درمیان یکجہتی اور کھیل کی متحرک روح کی علامت ہے۔ تاہم اس کا نام اور ڈیزائن ہی اس کی اصل اہمیت نہیں، بلکہ ٹریونڈا مستقبل کی جدت اور اختراع کی علامت بن چکی ہے۔

ٹریونڈا کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ نہیں کہ یہ ایک فٹ بال ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایک ایسی چیز، جس کی بنیادی ساخت ایک صدی سے زیادہ عرصے تک تقریباً تبدیل نہیں ہوئی، اسے ایک ذہین نظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فیفا اور ایڈیڈاس نے صرف ایک بہتر فٹ بال تیار نہیں کی، بلکہ انہوں نے اس تصور کو ازسرِنو تشکیل دیا کہ ڈیجیٹل دور میں ایک فٹ بال کیا کچھ بن سکتی ہے۔ سینسرز، باہمی رابطے، حقیقی وقت کے تجزیاتی نظام اور فیصلہ سازی میں معاون ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے انہوں نے ایک روایتی کھیل کی گیند کو معلومات اور بصیرت کے قیمتی ذریعے میں بدل دیا ہے۔

ٹریونڈا اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ جدت صرف نئی مصنوعات ایجاد کرنے کا نام نہیں۔ کئی بار سب سے بڑی کامیابیاں اس وقت حاصل ہوتی ہیں جب ہم موجودہ مصنوعات کو نئے زاویے سے دیکھتے ہیں اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ان میں نئی قدر پیدا کرتے ہیں۔

یہ تبدیلی رہنماؤں، پالیسی سازوں، منتظمین اور پیشہ ور افراد کے سامنے کئی اہم سوالات بھی رکھتی ہے۔ اگر دنیا کی قدیم ترین اور سادہ ترین مصنوعات میں سے ایک کو ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی شکل دی جا سکتی ہے تو پھر ہماری تنظیموں کو اپنی مصنوعات، خدمات اور طریقۂ کار پر نئے انداز سے غور کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟ اگر ایک فٹ بال میدان میں بہتر فیصلوں کے لیے ڈیٹا فراہم کر سکتی ہے تو کیا ہماری تنظیمیں بھی اپنے اداروں میں بہتر فیصلوں کے لیے ڈیٹا سے مؤثر فائدہ اٹھا رہی ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے اداروں اور افرادی قوت کو ایسے مستقبل کے لیے تیار کر رہے ہیں جہاں کامیابی صرف سخت محنت پر نہیں بلکہ تخلیقی سوچ، مسلسل سیکھنے، جدت اور ٹیکنالوجی کے دانشمندانہ استعمال پر منحصر ہوگی؟

درحقیقت ٹریونڈا کی کہانی صرف ایک فٹ بال کی نہیں بلکہ تبدیلی اور ارتقا کی کہانی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی روایتی ترین مصنوعات کو بھی نئی زندگی دے سکتی ہے اور ان میں ایسی نئی قدر پیدا کر سکتی ہے جس کا پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا۔ یہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ اب جدت کوئی اختیاری چیز نہیں رہی۔ جو ادارے مسلسل اختراع کرتے رہیں گے وہی ترقی کریں گے، جبکہ تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کرنے والوں کے لیے اپنی اہمیت برقرار رکھنا مشکل ہوتا جائے گا۔

دنیا تیزی سے ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعات، خدمات اور کاروباری عمل سب کے سب ذہین بنتے جا رہے ہیں۔ گاڑیاں محض سواری کے بجائے سافٹ ویئر پلیٹ فارم میں تبدیل ہو رہی ہیں، کارخانے ڈیٹا پیدا کرنے والے نظام بن رہے ہیں، صحت کا شعبہ پیش گوئی پر مبنی خدمات کی طرف بڑھ رہا ہے، اور اب فٹ بال بھی ایک ایسی اسمارٹ پراڈکٹ بن چکی ہے جو حقیقی وقت میں ڈیجیٹل نظاموں سے رابطہ قائم کر سکتی ہے۔

آج کے شہری اور صارفین ایسی مصنوعات اور خدمات چاہتے ہیں جو باہم مربوط، ڈیٹا پر مبنی، انفرادی ضروریات سے ہم آہنگ، فوری ردِعمل دینے والی اور مسلسل بہتر ہوتی رہیں۔ اس لیے آج قائدین کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی ان کے شعبے کو بدل دے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کی تنظیم اس تبدیلی کی قیادت کرے گی یا خود اس کا شکار بن جائے گی۔

تاریخ ہمیں بے شمار سبق دیتی ہے۔ کوڈک کبھی فوٹوگرافی کی دنیا پر حکمرانی کرتا تھا، مگر ڈیجیٹل دور کا ساتھ نہ دے سکا۔ نوکیا ایک زمانے میں موبائل فون کی عالمی منڈی کا سب سے بڑا نام تھا، لیکن اسمارٹ فون انقلاب کی رفتار کا درست اندازہ نہ لگا سکا۔ اس کے برعکس وہ ادارے جو مسلسل سیکھتے، جدت اختیار کرتے اور خود کو بدلتے رہتے ہیں، نہ صرف اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہیں بلکہ مسلسل نئی قدر بھی پیدا کرتے ہیں۔ ٹریونڈا اسی تبدیلی کی علامت ہے۔ اگر ایک فٹ بال بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے نئی شکل اختیار کر سکتی ہے تو ہر ادارے کو خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا وہ بھی اتنی ہی تیزی سے ترقی کر رہا ہے؟

ذہین مصنوعات اور خدمات کے اس نئے دور میں افرادی قوت کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ مستقبل کے پیشہ ور افراد کو ٹیکنالوجی، کاروبار اور ڈیٹا کے سنگم پر کام کرنا ہوگا۔ چونکہ علم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پرانا ہو رہا ہے، اس لیے سیکھنے کا عمل زندگی بھر کی عادت بنانا ہوگا۔ ہر شخص کے لیے پروگرامر بننا ضروری نہیں، لیکن ہر کسی کو یہ ضرور سمجھنا ہوگا کہ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور تجزیاتی ٹیکنالوجی اس کے پیشے کو کس طرح بدل رہے ہیں۔

جیسے جیسے معمول کے کام خودکار ہوتے جائیں گے، انسان کی اصل اہمیت پیچیدہ مسائل حل کرنے، نئے خیالات پیدا کرنے، بہتر فیصلہ کرنے اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرنے میں ہوگی۔ اسی کے ساتھ اخلاقی بصیرت بھی ناگزیر رہے گی تاکہ جدت اور ٹیکنالوجی کا استعمال معاشرے کے مفاد میں اور ذمہ داری کے ساتھ کیا جا سکے۔

یہ تمام اسباق پاکستان کے سرکاری شعبے کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ آج کا شہری پہلے سے کہیں زیادہ باخبر، باہم مربوط اور باشعور ہے۔ اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بدولت وہ نہ صرف دوسرے ممالک بلکہ نجی شعبے کی خدمات سے بھی سرکاری اداروں کی کارکردگی کا موازنہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی توقعات پہلے سے کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ، معلومات پر مبنی اور سخت ہو چکی ہیں۔ لوگ بروقت خدمات، شفافیت، فوری ردِعمل اور قابلِ پیمائش نتائج چاہتے ہیں۔

ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے سرکاری اداروں کو روایتی دفتری نظام سے آگے بڑھ کر سیکھنے والے ادارے بننا ہوگا۔ ہر منصوبہ، ہر پالیسی، ہر کامیابی، ہر ناکامی اور ہر شہری سے ہونے والا رابطہ ایسا تجربہ ہونا چاہیے جس سے حاصل ہونے والا علم مستقبل کی کارکردگی کو بہتر بنائے۔ اسی طرح سرکاری اداروں کو زیادہ چستی، بہتر باہمی تعاون اور تیز رفتار فیصلہ سازی اپنانا ہوگی، جبکہ غیر ضروری درجہ بندی اور پیچیدہ انتظامی ڈھانچے کو کم کرنا ہوگا، کیونکہ یہی رکاوٹیں اکثر نئے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرتی اور فیصلوں میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔

انسانی وسائل کے بارے میں ہماری سوچ میں بھی بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ کئی دہائیوں تک بیشتر اداروں نے ایسے ملازمین تیار کیے جو صرف احکامات پر عمل کریں اور خطرات مول لینے سے گریز کریں۔ مگر مستقبل ان اداروں کا ہے جو تخلیقی، تجزیاتی اور جدت پسند پیشہ ور افراد تیار کریں۔ سرکاری ملازمین کو صرف قواعد کی پابندی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں فرسودہ طریقوں کو چیلنج کرنے، نئے خیالات پیش کرنے، پیچیدہ مسائل حل کرنے اور عوامی مفاد میں نئی قدر پیدا کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

جدت اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب باصلاحیت افراد پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اختیارات دیے جائیں۔ خودمختاری اور اختیارات کی منتقلی محض انتظامی اقدامات نہیں بلکہ جدت، مؤثر کارکردگی اور نئی قدر پیدا کرنے کے بنیادی ستون ہیں۔ جب اہل ملازمین کو فیصلے کرنے، نئے طریقے آزمانے اور نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے تو ادارے زیادہ لچکدار، زیادہ مؤثر اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے قابل بن جاتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کو بھی حکمرانی کے مرکز میں لانا ہوگا۔ جس طرح ٹریونڈا میدان میں بہتر فیصلوں کے لیے سینسرز اور حقیقی وقت کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھاتی ہے، اسی طرح سرکاری اداروں کو بھی اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور شواہد پر مبنی نظم و نسق کو بروئے کار لا کر پالیسی سازی، خدمات کی فراہمی، وسائل کی تقسیم اور احتساب کو بہتر بنانا ہوگا۔

ذرا ایک ایسے سرکاری نظام کا تصور کیجیے جہاں ٹریفک کا انتظام، صحت کے وسائل کی تقسیم، شہری خدمات اور پالیسی سازی حقیقی وقت کے ڈیٹا اور قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر انجام پائیں۔ ایسا نظام نہ صرف عوام کو بہتر خدمات فراہم کرے گا بلکہ سرکاری وسائل کو بھی کہیں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرے گا۔

پاکستان کے سرکاری شعبے کا مستقبل عمارتوں، بجٹ یا روایتی طریقۂ کار سے کم اور سیکھنے، جدت، اعتماد، بااختیار بنانے اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ صلاحیتوں سے زیادہ وابستہ ہوگا۔ کامیاب ادارے وہ ہوں گے جو سخت درجہ بندی کی جگہ تعاون، غیر ضروری کنٹرول کی جگہ دانشمندانہ احتساب، اور محض قواعد کی پابندی کی جگہ تخلیقی سوچ اور مسلسل بہتری کی ثقافت کو فروغ دیں گے۔

صرف ٹیکنالوجی تبدیلی نہیں لا سکتی۔ حقیقی تبدیلی وہ لوگ لاتے ہیں جنہیں سوچنے، تجربہ کرنے، سیکھنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ مستقبل کے کامیاب ادارے وہ نہیں ہوں گے جن کے پاس سب سے زیادہ قواعد و ضوابط ہوں، بلکہ وہ ہوں گے جن میں سیکھنے، خود کو بدلنے اور حالات سے ہم آہنگ ہونے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہوگی۔

ٹریونڈا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک فٹ بال بھی ڈیٹا، باہمی رابطے اور جدت کی بدولت ایک ذہین نظام میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اب اصل سوال تنظیمی قائدین، پالیسی سازوں اور سرکاری منتظمین کے سامنے یہ ہے: اگر ایک فٹ بال ذہین بن سکتی ہے، تو کیا ہمارے ادارے بھی ذہانت کی اسی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026