کراچی دہشت گردی، پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج
- دفتر خارجہ کا افغان شہریوں کے مبینہ ملوث ہونے پر شدید تشویش کا اظہار
پاکستان نے کراچی میں حالیہ دہشت گرد حملے پر افغان طالبان حکام سے باضابطہ احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں افغانستان کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر لیا اور افغان شہریوں کے مبینہ ملوث ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
ہفتے کے روز کراچی میں سندھ رینجرز کی ایک تنصیب پر بم اور فائرنگ کے حملے میں تین رینجرز اہلکار شہید جبکہ چار زخمی ہو گئے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے تناظر میں یہ ایک بڑا حملہ تھا۔
فوج کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے گلستانِ جوہر میں واقع رینجرز کیمپ کے داخلی دروازے پر دھماکا کیا، جس کے بعد اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے پیر کو بتایا کہ اتوار کی شب افغانستان کے ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں حکومت پاکستان نے اس دہشت گرد حملے پر اپنا باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی کابل میں افغان وزارتِ خارجہ کو اسی نوعیت کا احتجاجی مراسلہ پیش کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ احتجاجی مراسلہ ابتدائی تحقیقات کے بعد جاری کیے گئے، جن سے معلوم ہوا کہ کراچی دہشت گرد حملے میں افغان شہری ملوث تھے، جن میں ایک مشتبہ حملہ آور کو زندہ گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغان سرزمین اور افغان شہریوں کو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔