اداریہ

سرکاری سطح پر قیمتوں کے تعین کی بھاری قیمت

  • پیٹرولیم شعبے میں قیمتوں کے تعین کنندہ کے طور پر حکومت کا حد سے زیادہ کردار ہے
شائع June 29, 2026 اپ ڈیٹ June 29, 2026 12:03pm

آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کے باعث حکومت کا پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا فیصلہ بلاشبہ صارفین کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اس اقدام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ریفائنریوں کی جانب سے شدید ردعمل بھی پیدا کیا ہے، جن کا اندازہ ہے کہ انہیں 105 ارب روپے کا نقصان ہوگا، اور انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کو یکطرفہ اور غیر مستقل قرار دیا ہے۔ اگرچہ ان کا احتجاج تجارتی مفادات سے متحرک ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک گہرے ساختیاتی مسئلے کی بھی نشاندہی کرتا ہے، یعنی پیٹرولیم شعبے میں قیمتوں کے تعین کنندہ کے طور پر حکومت کا حد سے زیادہ کردار۔

یہاں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ صنعت کا احتجاج اپنی جگہ ایک ستم ظریفی بھی رکھتا ہے۔ جب آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پہلی مرتبہ تیزی آئی تھی تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ان ذخائر پر غیر معمولی منافع (ونڈ فال گین) حاصل ہوا تھا، جو انہوں نے اس سے پہلے کم بین الاقوامی قیمتوں پر خرید رکھے تھے۔ لیکن آج یہی کمپنیاں مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں بار بار کی جانے والی تبدیلیوں نے غیر متناسب طور پر تمام اخراجات ان پر ڈال دیے ہیں۔ صنعتی نمائندوں کے مطابق حکومت نے قیمتوں کے تعین کے لیے کبھی ہفتہ وار اور کبھی پندرہ روزہ اوسط قیمتوں کا طریقہ اختیار کیا، اور ہر مرتبہ اس کا نقصان شعبے کو برداشت کرنا پڑا۔ حالیہ فیصلے میں بھی اطلاعات کے مطابق حکومت نے درآمدی پریمیم کے تعین کے لیے ہفتہ وار یا دو ہفتہ وار حقیقی لاگت کے بجائے تین ماہ کی اوسط استعمال کی، حالانکہ معمول کے قیمت کے نظام میں اصل وقت (ریئل ٹائم) کی لاگت کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ اس قسم کی مسلسل تبدیلیوں نے نہ صرف مالی منصوبہ بندی کو پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ ضابطہ جاتی نظام (ریگولیٹری فریم ورک) پر اعتماد کو بھی کمزور کیا ہے۔

اہم معاملہ صرف حالیہ قیمتوں میں کمی تک محدود نہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نظام کئی دہائیوں سے ایسے انتظامی کنٹرولز کے تحت چل رہا ہے جو آزاد منڈی کے بنیادی اصولوں اور معاشی منطق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اِن لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) کے ذریعے ملک بھر میں ایندھن کی قیمتیں یکساں رکھی جاتی ہیں، چاہے نقل و حمل کی حقیقی لاگت میں کتنا ہی فرق کیوں نہ ہو۔ اس نظام کے تحت بندرگاہوں یا ریفائنریوں سے دور واقع علاقوں کے صارفین بھی وہی قیمت ادا کرتے ہیں جو ان کے قریب رہنے والے صارفین ادا کرتے ہیں، جبکہ اس فرق کو باہمی سبسڈی (کراس سبسڈی) کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔

اگرچہ ابتدا میں آئی ایف ای ایم کا مقصد انصاف اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانا تھا، لیکن عملاً اس نے اکثر اس کے برعکس نتائج پیدا کیے۔ چونکہ اس نظام نے قیمتوں کو حقیقی لاگت سے الگ کر دیا، اس لیے اس سے نقل و حمل کے اخراجات میں مبالغہ آمیز دعوے، لاجسٹکس میں ہیرا پھیری اور آربٹریج (قیمتوں کے فرق سے ناجائز منافع کمانے) کے مواقع پیدا ہوئے۔ کسی ایک علاقے کے لیے مختص ایندھن کو زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جا سکتا تھا، جس سے سپلائی چین کی کارکردگی متاثر ہوئی، قلت پیدا ہوئی اور مارکیٹ میں بگاڑ پیدا ہوا۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں سخت ریگولیٹری نگرانی نے ان بے ضابطگیوں میں کسی حد تک کمی ضرور کی ہے، لیکن بنیادی خرابی اب بھی برقرار ہے، یعنی قیمتوں کا تعین آج بھی منڈی کی حقیقی صورتحال کے بجائے انتظامی فیصلوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

پیٹرولیم شعبے میں قیمتوں کا تعین دراصل پاکستان کے معاشی نظم و نسق میں موجود ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ریاست کی جانب سے قیمتیں مقرر کرنے کے عمل نے غیر یقینی صورتحال، نااہلی اور رینٹ سیکنگ (غیر پیداواری مراعات اور غیر معمولی فوائد حاصل کرنے کی کوشش) کو جنم دیا ہے۔ یہی طرزِ عمل بجلی کی تقسیم کے شعبے میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں حکومت تین ڈسکوز کی نجکاری کی تیاری کر رہی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری نے عندیہ دیا ہے کہ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے خریداروں کو 18 سے 20 فیصد داخلی شرحِ منافع کی ضمانت دی جائے گی۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت پہلے ہی اجارہ داری رکھنے والے اداروں کو بلند منافع کی ضمانت دے رہی ہے تو پھر کاروباری خطرہ آخر کس کے ذمہ رہ جاتا ہے؟ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ نجکاری کی یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت اب تک یہ سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ قیمتوں کے تعین میں اس کا اپنا کردار، اور اس کے نافذ کردہ سخت قیمتوں کے فارمولے، ممکنہ سرمایہ کاروں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔

بالکل اسی طرح جیسے پیٹرولیم شعبے میں یکساں قیمتوں کا نظام رائج ہے، پاکستان کے بجلی کے شعبے میں بھی یکساں ٹیرف نافذ ہے، اور ساتھ ہی حکومت ڈسکوز سے 100 فیصد بلوں کی وصولی پر اصرار کرتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈسکوز مکمل وصولی نافذ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتیں، کیونکہ انہیں بنیادی عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، مثلاً پانی اور گیس فراہم کرنے والے سرکاری اداروں، کی بجلی عدم ادائیگی کے باوجود منقطع کرنے کی عملاً اجازت نہیں ہوتی۔ یہ تضاد انہیں مسلسل مالی دباؤ اور نقدی کے بحران کا شکار رکھتا ہے۔ کے الیکٹرک کا تجربہ بھی انہی ساختیاتی مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ تقریباً دو دہائیاں قبل نجکاری کے باوجود کمپنی آج تک ایک مرتبہ بھی اپنے حصص یافتگان کو منافع (ڈیویڈنڈ) تقسیم نہیں کر سکی، کیونکہ وہ مسلسل ریگولیٹری پابندیوں کے بوجھ تلے دبی رہی ہے۔ اس پس منظر میں یہ واضح ہے کہ اگر حکومت کارکردگی، سرمایہ کاری اور مالی استحکام حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے اہم شعبوں میں قیمتوں کے تعین پر اپنا کنٹرول بتدریج کم کرنا ہوگا اور ان شعبوں کے لیے باصلاحیت، بااختیار اور حقیقی معنوں میں خودمختار ریگولیٹری ادارے قائم کرنے ہوں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026