پاکستان

وزیر پیٹرولیم نے ترجیحی سلوک کے الزامات مسترد کر دیے

  • حکومت نہ کسی ایک شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے شعبے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے، علی پرویز ملک
شائع June 28, 2026 اپ ڈیٹ June 28, 2026 11:29am

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ہفتے کے روز اس تنقید کو مسترد کر دیا کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھ کر کسی ایک شعبے کو ترجیح دے رہی ہے یا کسی دوسرے شعبے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔

حکومت نے جمعہ کی شب آئندہ حکم تک پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتیں بالترتیب 299.50 روپے فی لیٹر اور 311.47 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیر پیٹرولیم نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر گزشتہ ہفتے کے عالمی تیل کی قیمتوں کا ایک جدول بھی شیئر کیا۔ ان کے مطابق 22 سے 26 جون کے دوران عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 90.36 ڈالر سے 98.35 ڈالر فی بیرل جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 104.79 ڈالر سے 109.09 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نہ کسی ایک شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے شعبے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی سپلائی لاگت میں 6.57 روپے فی لیٹر کمی آئی، جس سے ایکس ریفائنری قیمت 217.09 روپے سے کم ہو کر 210.52 روپے فی لیٹر رہ گئی۔ تاہم اسی مقدار کے برابر پیٹرولیم لیوی میں 6.57 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا، جو 72.97 روپے سے بڑھ کر 79.54 روپے فی لیٹر ہو گئی، یوں صارفین کو قیمت میں کمی کا فائدہ منتقل نہیں کیا گیا۔

اسی طرح پیٹرول کی سپلائی لاگت میں 39 پیسے فی لیٹر کمی آئی، جس کے بعد ایکس ریفائنری قیمت 211.37 روپے سے کم ہو کر 210.98 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ لیکن پیٹرولیم لیوی بھی 39 پیسے بڑھا کر 66.25 روپے سے 66.64 روپے فی لیٹر کر دی گئی، جس کے باعث پیٹرول کی قیمت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026