سندھ اسمبلی میں بجٹ پر بحث سیاسی رنگ اختیار کر گئی
- اپوزیشن نے شہری مسائل، بلدیاتی خدمات اور حکومتی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔
سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر بحث ہفتے کے روز شدید سیاسی رنگ اختیار کر گئی۔ حکومتی ارکان نے جرائم میں نمایاں کمی، کم از کم ماہانہ اجرت 43,000 روپے مقرر کرنے اور گٹکا و ماوا کو منشیات قرار دینے کے لیے قانون سازی کا اعلان کیا، جبکہ اپوزیشن نے شہری مسائل، بلدیاتی خدمات اور حکومتی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔
اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں امن و امان، کچے کے علاقے میں آپریشن، منشیات، بلدیاتی نظام، مزدوروں کی فلاح اور سندھی-مہاجر سیاسی تقسیم جیسے اہم موضوعات پر بحث ہوئی، جس کے دوران کئی مواقع پر ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔
وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسٹریٹ کرائم اور پرتشدد جرائم میں 40 فیصد، مجموعی جرائم میں 10 فیصد جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رواں سال کراچی میں کوئی بڑا دہشت گرد حملہ نہیں ہوا، جبکہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے 642 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے 66 افراد کو گرفتار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مزدا گاڑی سے 200 کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد کر کے ایک بڑا دہشت گرد منصوبہ ناکام بنایا گیا۔ تاہم ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طٰہٰ احمد نے کہا کہ بحث کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ کراچی اور سندھ کی ترقی کے لیے باہمی تعاون ضروری ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ کچے کے علاقوں میں آپریشن نجاتِ مہران کے دوران 48 ڈاکو مارے گئے، 539 نے ہتھیار ڈالے اور 115,000 ایکڑ رقبہ جرائم پیشہ عناصر سے واپس لے لیا گیا۔ موبائل فون چھیننے کے واقعات میں بھی 7 فیصد کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پی ایل سی جلد ایک نئی موبائل ایپ متعارف کرا رہا ہے، جس کے ذریعے موبائل فون کی خرید و فروخت رجسٹر ہوگی اور چوری شدہ فونز کا سراغ لگایا جا سکے گا۔ اب تک 2,458 چھینے گئے موبائل فون ان کے مالکان کو واپس کیے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی سیکریٹری جمیل سومرو نے اساتذہ، ابتدائی تعلیم، سائنس ٹیچرز اور پولیس کانسٹیبلز کی خالی آسامیوں پر طویل انتظار کی فہرستوں کو حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
منشیات کے موضوع پر وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ کراچی کے نوجوانوں میں کوکین، آئس اور چرس کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے اور کم عمر بچوں کے منشیات استعمال کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے منشیات کے ٹیسٹ سے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوکین کراچی ایئرپورٹ کے بجائے لاہور اور پشاور ایئرپورٹس کے ذریعے پاکستان پہنچ رہی ہے، جس پر ایوان میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی فریال تالپور نے مطالبہ کیا کہ گٹکا اور ماوا کو انسداد منشیات ایکٹ کے تحت لانے کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے، کیونکہ ان کا استعمال ساحلی اضلاع سے بڑھ کر شہید بینظیر آباد تک پھیل چکا ہے اور یہ ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن گیا ہے۔
وزیر محنت سعید غنی نے اعلان کیا کہ سندھ یکم جولائی سے 43,000 روپے کم از کم ماہانہ اجرت نافذ کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ بن جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ کم از کم اجرت بورڈ کی منظوری سے کیا گیا، جس میں آجر اور مزدور دونوں کے نمائندے شامل تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ پر انکم ٹیکس کی کٹوتی ختم کر دی گئی ہے اور اس سہولت کو دیگر صوبوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔
سعید غنی کے مطابق سوشل سکیورٹی ادارے نے 13.5 ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف حاصل کیا، جبکہ رواں سال 25 لاکھ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو مفت طبی سہولتیں فراہم کی گئیں، جو گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں 150,000 زیادہ ہیں۔
انہوں نے بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیرا میڈیکل عملے کی 291 آسامیوں پر 2022 کے اشتہار کے تحت شفاف بھرتیاں کی گئیں، جن میں سے 112 امیدواروں نے ملازمت اختیار کی۔ انہوں نے سوشل سکیورٹی کے دوہری تنخواہوں کے معاملے میں 31 ملازمین کی برطرفی اور رقوم کی وصولی کی کارروائی کی تصدیق بھی کی۔
وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سیکڑوں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، 150 سے زائد چھوٹی سڑکیں بحال کی گئی ہیں اور روزانہ 15,000 ٹن کچرا اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 میں قائم ہونے والا صوبائی فنانس کمیشن اب باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے گا تاکہ بلدیاتی اداروں کو وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس کا سب سے زیادہ سیاسی اور گرم لمحہ اس وقت آیا جب سعید غنی نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں اب پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے اور آئندہ انتخابات کے بعد اپوزیشن کی نشستیں مزید کم ہو جائیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026