کاروبار اور معیشت

ایران: سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 88.6 فیصد تک پہنچ گئی

  • دسمبر 2025 میں، جب مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں سیاسی مطالبات تک پھیل گئے، اس وقت سالانہ افراطِ زر کی شرح 52.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
شائع June 27, 2026 اپ ڈیٹ June 27, 2026 11:56pm

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باعث ایران میں جون کے دوران مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور سالانہ بنیاد پر افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 88.6 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ایرانی ادارۂ شماریات کے مطابق فارسی مہینے خرداد (22 مئی تا 21 جون) کے دوران خوراک کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئیں۔ ایران پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کے باعث کئی برس سے شدید مہنگائی کا شکار ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق روٹی اور اناج کی قیمتوں میں 138.8 فیصد، دودھ، پنیر اور انڈوں کی قیمتوں میں 151.9 فیصد جبکہ سرخ گوشت اور مرغی کی قیمتوں میں 178.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے برعکس، فروری میں، یعنی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے سے قبل، سالانہ مہنگائی کی شرح 68 فیصد تھی۔

دسمبر 2025 میں، جب مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں سیاسی مطالبات تک پھیل گئے، اس وقت سالانہ افراطِ زر کی شرح 52.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

ایران میں معاشی اعداد و شمار فارسی کیلنڈر کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر جاری کیے جاتے ہیں، جس میں نیا سال مارچ سے شروع ہوتا ہے۔

ایرانی معیشت کئی برس سے مسلسل بلند افراطِ زر اور ملکی کرنسی ریال کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کے باعث مشکلات کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ ملک پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔

مہنگائی نے ایرانی عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں اس بحران میں مزید شدت آئی، جس کے نتیجے میں دسمبر میں ملک گیر احتجاج بھی دیکھنے میں آئے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایران کے معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔