پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کئی روز بعد دوبارہ خریداری کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس پورے سیشن کے دوران مثبت زون میں رہا جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کاروبار کا آغاز محتاط انداز میں ہوا اور ابتدائی گھنٹوں میں انڈیکس معمولی گراوٹ کے ساتھ 177,931.32 پوائنٹس کی کاروباری دن کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ تاہم جلد ہی مارکیٹ میں جارحانہ خریداری دیکھنے میں آئی جس نے مارکیٹ کو تیزی سے بحال ہونے میں مدد دی۔ بینچ مارک انڈیکس صبح کے سیشن میں مسلسل اوپر چڑھتا رہا اور 178,500 پوائنٹس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے دوپہر تک اپنی اس تیزی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

دوپہر کے سیشن کے دوران تیزی مزید بڑھ گئی جس سے انڈیکس 179,919.27 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,878.34 پوائنٹس یا 1.06 فیصد اضافے سے 179,571.26 پوائنٹس پر بند ہوا۔

یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی کیونکہ علاقائی جغرافیائی سیاسی پیشرفت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے جبکہ پرافٹ ٹیکنگ اور دیگر انڈیکس ہیوی سیکٹرز میں مسلسل دوسرے سیشن میں بھی گراوٹ کا شکار رہے ۔

گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 778.95 پوائنٹس یا 0.44 فیصد کی کمی سے177,692.92 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مارکیٹ میں اس مثبت رجحان کی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انڈیکس کو اوپر لے جانے میں سب سے زیادہ مثبت حصہ یو بی ایل، لک، سروس، پی پی ایل، ایف ایف سی اور ایم سی بی نے ڈالا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 920 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

اس سے قبل منگل کو علاقائی جیو پولیٹیکل صورتحال کی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے جس کی وجہ سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی، جبکہ منافع خوری اور دیگر بڑے سیکٹرز میں ہونے والی فروخت کی وجہ سے مسلسل دوسرے سیشن میں بھی مندی کا تسلسل دیکھا گیا۔ منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس 778.95 پوائنٹس یا 0.44 فیصد کمی کے بعد منفی زون میں 177,692.92 کی سطح پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ کا رجحان رہا۔ یہ صورتحال منگل کو ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں ہونے والی عالمی گراوٹ کے بعد سامنے آئی ۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.02 فیصد گرگیا۔ جنوبی کوریا کے حصص جو منگل کو مارچ کے بعد اپنی ایک دن کی سب سے بڑی گراوٹ یعنی 10 فیصد تک گرگئے تھے میں 2.2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور آخری اطلاعات تک 0.8 فیصد نیچے تھا۔

عالمی منڈیوں میں منگل کی رات رسک آف (سرمایہ کاری میں احتیاط) کا رجحان دیکھنے میں آیا جس کے اثرات یورپ اور ایشیا کے بعد وال اسٹریٹ پر بھی مرتب ہوئے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے قرض لے کر کیے جانے والے اخراجات پر تشویش اور یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو مانیٹری پالیسی کو مزید سخت بنا سکتا ہے۔ اس دوران سرمایہ کاروں نے حکومتی قرضوں (ٹریژری بانڈز) میں سرمایہ کاری کو محفوظ تصور کیا جس کے باعث ٹریژری ییلڈز میں کمی دیکھی گئی۔

ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.09 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 1.4 فیصد، اور نیس ڈیک کمپوزٹ میں 2.2 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ بینچ مارک امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ کی ییلڈ 1.41 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.493 فیصد پر آ گئی۔

تیل قیمتوں میں رواں ہفتے جاری گراوٹ کا سلسلہ برقرار رہا، یہ گزشتہ روز کی طرح چار ماہ کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتی رہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ اشارے ہیں کہ ایران جنگ کے آغاز سے خلیج میں پھنسے مزید آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کے اضافے کے بعد ڈالر کے مقابلے میں 278.20 پر بند ہوئی۔

مارکیٹ میں مجموعی طور پر کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 765.14 ملین شیئرز سے بڑھ کر 851.30 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 35.44 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 40.38 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

کے الیکٹرک لمیٹڈ 112.89 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں پہلے نمبر پر رہی، جبکہ پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل 73.29 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ورلڈ کال ٹیلی کام 38.76 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

بدھ کو مجموعی طور پر 489 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 289 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 167 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 33 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔