فنانس بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج
- اپوزیشن کی تمام مجوزہ ترامیم مسترد کردی گئیں
قومی اسمبلی میں منگل کو فنانس بل 27-2026 کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔
آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے منگل کو اتحادی جماعتوں کے تعاون سے مالی سال 2026-27 کے لیے کچھ ترامیم کے ساتھ فنانس بل 2026 منظور کیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ (کل) صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں بل پیش کیا جس میں حکومت کی حمایت یافتہ کئی ترامیم شامل ہیں۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔
آج نیوز کے مطابق محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کردہ ترامیم کو قبول کرلیا گیا جبکہ اپوزیشن کی تمام مجوزہ ترامیم مسترد کردی گئیں۔
چند روز قبل محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے لیے 18.77 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا تھا جس میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور صنعتوں کی بحالی، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معیشت کو 4 فیصد نمو کے ہدف کی جانب لے جانے کے لیے برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبوں کو ٹیکس مراعات دی گئیں۔
رواں مالی سال تقریباً 1 کھرب روپے کے متوقع ریونیو شارٹ فال کے باوجود حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 15.264 کھرب کا ریونیو ہدف مقرر کیا ہے۔ رواں مالی سال کے 12.983 کھرب روپے کے نظرثانی شدہ ریونیو تخمینے کے مقابلے میں یہ ہدف اگلے سال کے لیے ریونیو اکٹھا کرنے میں 17.6 فیصد کی نمایاں نمو کی عکاسی کرتا ہے۔
بجٹ پیش کرنے کے فوراً بعد ایف بی آر نے فنانس بل 2026-27 جاری کردیا۔ اسی روز وزیرخزانہ نے سینیٹ میں مجوزہ فنانس بل 2026 کی ایک کاپی پیش کی۔
15 جون کو سینیٹ نے مجوزہ وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز کیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اتوار کو حکومت کو خبردار کیا کہ فنانس بل (2026) کے تحت مناسب تکنیکی جائزے اور پارلیمانی جانچ پڑتال کے بغیر قانون سازی میں ترامیم متعارف نہ کرائی جائیں۔
کمیٹی نے سنجیدگی سے مشاہدہ کیا کہ آخری لمحات میں کی جانے والی تبدیلیاں قانون سازی کے معیار کو متاثر کر سکتی ہیں، قانونی ابہام پیدا کرسکتی ہیں اور نفاذ میں مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔
چیئرمین سید نوید قمر نے زور دیا کہ ایک متوازن اور شعبہ جاتی امتیاز سے پاک فریم ورک نہ صرف مسابقت کو بہتر بنائے گا بلکہ ایک مضبوط، زیادہ لچکدار اور موثر ایوی ایشن انڈسٹری کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہوگا۔