اسٹاک ایکسچینج : تیزی کے اثرات زائل، انڈیکس 450 پوائنٹس گرگیا
- کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 178,471.86 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو اتار چڑھاؤ سے بھرپور ٹریڈنگ سیشن دیکھنے میں آیا، 100 انڈیکس دونوں سمتوں میں حرکت کرنے کے بعد ابتدائی تیزی گنوا کر مندی کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، بینچ مارک انڈیکس ابتدا ہی میں 180,507.82 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا جو خریداری کے مضبوط رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی کیونکہ سرمایہ کاروں نے ابتدائی ریلی کے بعد پرافٹ ٹیکنگ کو ترجیح دی۔ بینچ مارک دن بھر بتدریج نیچے آتا رہا اور بحالی کی وقفے وقفے سے کی گئی کوششیں ناکام رہیں۔
دوپہر کے سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا جس سے انڈیکس گر کر دن کی کم ترین سطح 178,337.14 پوائنٹس پر آ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 450.89 پوائنٹس یا 0.25 فیصد کی کمی سے 178,471.86 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکرج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق انڈیکس میں کمی کی بنیادی وجہ بڑے شیئرز کا منفی رجحان رہا، جن میں ایف ایف سی، بینک الحبیب، ایچ بی ایل، لکی سیمنٹ اور ایم سی بی شامل ہیں۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر مارکیٹ انڈیکس کو 326 پوائنٹس نیچے دھکیلا۔
ادھر سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور پیر کو اختتام پذیر ہوگیا، ثالثوں نے بتایا کہ یہ مذاکرات ایک کشیدہ آغاز کے بعد ختم ہوئے۔ اس کشیدہ ماحول کی وجہ تہران کی جانب سے دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں کا اعادہ تھا۔
ثالث ممالک قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران 60 دنوں کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے روڈ میپ پر متفق ہو گئے ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ اس پورے ہفتے سوئٹزرلینڈ کے پرفضا مقام برگن اسٹاک کے ریزورٹ میں جاری رہے گا۔
گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی اور مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اعلان کردہ سرمایہ کار دوست مالیاتی اقدامات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نمایاں طور پر تقویت دی جس کے نتیجے میں بڑے شعبوں میں جارحانہ خریداری دیکھی گئی۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس6,522.84 پوائنٹس یعنی 3.8 فیصد اضافے سے 178,922.75 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ 172,399.91 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی شیئر بازاروں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی کیونکہ ایرانی مذاکرات کاروں نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے جس سے اس خدشے میں کمی آئی کہ مذاکراتی عمل ناکامی سے دوچار ہوسکتا ہے۔
اس خبر کے بعد برینٹ خام تیل کے فیوچرز نے ابتدائی بڑھت کھو دی اور 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 80.17 ڈالر فی بیرل پر آگئے جو مئی میں ریکارڈ کی گئی 126.41 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے خاصے نیچے ہے۔
امریکی خام تیل کی قیمت تاہم 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 77.52 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہی۔
جاپان کا نکئی انڈیکس 1.9 فیصد بڑھ گیا جبکہ گزشتہ ہفتے یہ تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔ جنوبی کوریا کی تیزی سے گرم ہوتی ہوئی مارکیٹ میں مزید 2.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ہفتے سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص کی مضبوط طلب کے باعث اس میں 11 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 1.0 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چینی بلیو چِپ حصص تقریباً مستحکم رہے۔
پیر کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور اس میں 0.01 فیصد بہتری آئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے (0.03 روپے) کے اضافے سے 278.22 کی سطح پر بند ہوئی۔
مارکیٹ کے آل شیئرز انڈیکس پر کاروباری حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 1,050.04 ملین شیئرز سے کم ہو کر 807.48 ملین شیئرز رہ گیا۔
اس کے ساتھ ہی شیئرز کے کاروبار کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 54.14 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 36.17 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
ورلڈ کال ٹیلی کام 59.56 ملین شیئرز کے کاروباری حجم کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی، جس کے بعد ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ 59.27 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ٹی پی ایل پراپرٹیز 56.03 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
پیر کو مجموعی طور پر 491 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 214 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 240 میں کمی دیکھی گئی جبکہ 37 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔