دنیا

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کا جنگ بندی پر اتفاق، سوئٹزرلینڈ میں امریکا،ایران مذاکرات منسوخی کے بعد امریکی عہدیدار کا دعویٰ

  • لبنان میں جنگ بندی امریکا اور ایران کے امن مذاکرات کی بحالی کے لیے اہم قرار
شائع June 19, 2026 اپ ڈیٹ June 19, 2026 08:48pm

امریکی عہدیدار کے مطابق جمعہ کو لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم وہاں بڑھتی ہوئی لڑائی نے ایران میں جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق عبوری معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن معاہدے میں بدلنے کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں جمعہ کے روز طے شدہ امریکا اور ایران کے مذاکرات لبنان میں کشیدگی بڑھنے کے باعث منسوخ کر دیے گئے، جس سے آبنائے ہرمز کو عالمی بحری تجارت کے لیے دوبارہ کھولنے سے متعلق اہم بات چیت کے وقت پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

سینئر امریکی عہدیدار نے لبنان کے مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے (1300 جی ایم ٹی) سے کچھ دیر قبل بتایا کہ اسی وقت جنگ بندی نافذ ہو جائے گی۔

متعلقہ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ آج کی ابتدائی فائرنگ کے تبادلے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان اب جنگ بندی ہو چکی ہے،“ اور مزید بتایا کہ امریکا اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کی معاونت سے یہ معاہدہ طے کیا ہے۔

لبنان میں کشیدگی میں اضافے کے دوران فضائی حملوں میں 18 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ حزب اللہ کے حملوں میں چار اسرائیلی فوجی مارے گئے۔ یہ صورتحال مذاکرات پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے کیونکہ وہاں لڑائی کا خاتمہ امریکا اور ایران کے وسیع تر معاہدے کی ایک شرط تصور کیا جا رہا ہے۔

حزب اللہ کے ایک سینئر قانون ساز کے مطابق ایران نے اس گروپ کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت اس وقت تک جاری نہیں رہ سکتی جب تک مکمل جنگ بندی نہ ہو جائے۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان مذاکرات کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، تاہم کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کی براہِ راست ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے اور تہران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔