سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیاں، پاکستان نے خط صدر سلامتی کونسل کو دیدیا
- سلامتی کونسل سے بھارت کے پانی کا رخ موڑنے کے غیر قانونی منصوبوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب (سفیر) عاصم افتخار احمد نے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی جانب سے ایک خط سلامتی کونسل کی جون کے لیے صدر و کولمبیا کی سفیر لیونور زالاباتا ٹوریس کے حوالے کیا ہے۔
پاکستانی مشن کی پریس ریلیز کے مطابق یہ خط پڑوسی ملک کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل غیر قانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں کے بارے میں ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ خط 15 رکنی کونسل کی توجہ دریائے چناب کے نظام سے منسلک بھارت کے بنیادی ڈھانچے کے ان دو غیر قانونی منصوبوں کی طرف مبذول کرواتا ہے جن کا مقصد پانی کا رخ موڑنا ہے اور جو مغربی دریاؤں کے معاہدے کے تحت طے شدہ بہاؤ اور استعمال کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کے بھارتی ارادے کو ظاہر کرتے ہیں۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے ان اقدامات کے پاکستان میں پانی، خوراک اور معاشی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔
خط میں سلامتی کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس نازک اور بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت کو اس کی کھلی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔
پریس ریلیز کے مطابق سفیر عاصم افتخار نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یواین ایس سی) کی صدر کو جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال اور تنازعہ جموں و کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر بھارت کی مسلسل عدم تعمیل کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔