پاکستان

نجی ادارے ٹیلی کام انفراسٹرکچر منصوبوں کو روک نہیں سکیں گے،ٹیلی کام قوانین میں بڑی ترامیم کی تجویز

  • ترامیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی عوامی ادارہ یا انتظامیہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر تک اجتماعی نجی رسائی کے بدلے فیس، کرایہ یا معاوضہ وصول نہیں کر سکے گا۔
شائع June 19, 2026 اپ ڈیٹ June 19, 2026 10:15am

وفاقی حکومت نے ٹیلی کام قوانین میں وسیع تر ترامیم تجویز کی ہیں جن کے تحت ٹیلی کام آپریٹرز کو غیر معمولی اور وسیع رائٹ آف وے اختیارات دیے جائیں گے، نیٹ ورک انفراسٹرکچر منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا، اور نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی) کی گورننس میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے کنٹرول کو کم کیا جائے گا۔

مجوزہ ترامیم کے مطابق ٹیلی کام لائسنس ہولڈرز کو فائبر آپٹک نیٹ ورکس، ٹیلی کام ٹاورز اور فائیو جی سے متعلق سہولیات سمیت انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے مکمل رائٹ آف وے حاصل ہوگا۔

مجوزہ سیکشن 27A کے تحت یہ اختیار کسی بھی متضاد قانون، معاہدے، قواعد یا ضابطوں پر بالادست ہوگا، جس کے بعد سرکاری ادارے، ہاؤسنگ سوسائٹیز، کنٹونمنٹس، کمرشل اسٹیٹس اور نجی ادارے ٹیلی کام انفراسٹرکچر منصوبوں کو روک نہیں سکیں گے۔

نئے فریم ورک کے تحت اگر عوامی ادارے 30 دن کے اندر درخواستوں پر جواب نہیں دیتے تو انہیں منظور شدہ تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح ہاؤسنگ سوسائٹیز، کنٹونمنٹس اور کمرشل اسٹیٹس کے لیے بھی ڈیمنڈ اپروول کا اصول لاگو ہوگا، تاہم وہ صرف منصوبوں کے وقت اور طریقہ کار پر بات چیت کر سکیں گے، انہیں منصوبہ مکمل طور پر روکنے کا اختیار نہیں ہوگا۔

ترامیم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی عوامی ادارہ یا انتظامیہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر تک اجتماعی نجی رسائی کے بدلے فیس، کرایہ یا معاوضہ وصول نہیں کر سکے گا۔

ایک بار اجازت ملنے کے بعد متعلقہ ادارے اسے یکطرفہ طور پر تبدیل یا منسوخ نہیں کر سکیں گے۔

عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مجوزہ سیکشن 27B کے تحت حکومت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی پراپرٹی مالک، کرایہ دار یا ادارے پر جو رائٹ آف وے میں رکاوٹ ڈالے یا تاخیر کرے، 5 کروڑ روپے تک انتظامی جرمانہ عائد کر سکے۔ ان تنازعات کا فیصلہ 45 دن کے اندر ایک سرکاری افسر کرے گا جو کم از کم وفاقی یا صوبائی سیکرٹری کے عہدے کا حامل ہوگا۔

یہ اصلاحات طویل عرصے سے جاری بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے لائی جا رہی ہیں جن کی وجہ سے فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب اور مستقبل میں فائیو جی سروسز کی تیاری میں تاخیر ہوتی رہی ہے۔

ایک علیحدہ اقدام کے تحت حکومت نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنظیمِ نو بھی کر رہی ہے، جس کے تحت اسے سرکاری ملکیت میں ایک زیادہ خود مختار ادارے میں تبدیل کیا جائے گا جو ایس او ای ایکٹ 2023 کے مطابق ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026