امریکا ایران معاہدے سے مشرق وسطیٰ کا سیاسی نقشہ بدلنے کا امکان، تہران کے حریف ممالک تشویش کا شکار
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز ایک عبوری معاہدے پر دستخط کیے
امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی عبوری معاہدے کو اس صدی کا سب سے اہم سفارتی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں ایران کے مخالفین اسے خطے میں تہران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا پیش خیمہ سمجھ رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کے روز ایک عبوری معاہدے پر دستخط کیے، جس کے ذریعے تین ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوا۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی اور ایرانی صدر نے براہِ راست کسی معاہدے پر دستخط کیے ہوں۔
14 نکاتی معاہدے کے تحت جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کی گئی ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ اس دوران مستقل امن معاہدے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں نے معاہدے کو اپنے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے محقق ڈینی سیٹرینووچ کے مطابق اسرائیل اور امریکا کا مقصد ایران کو کمزور کرنا تھا، مگر نتیجتاً واشنگٹن نے ایران کو مزید قانونی حیثیت اور سفارتی قبولیت فراہم کر دی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ برقرار رہا تو ایران کو جنگ کے خاتمے، مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی، تیل کی برآمدات کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے بڑے مالی وسائل تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس امریکا اور اسرائیل اپنے کئی بنیادی اہداف، بشمول ایرانی نظام حکومت کی تبدیلی اور جوہری پروگرام کے خاتمے، حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
لبنان میں بھی اس معاہدے کو ایران نواز حزب اللہ کے لیے فائدہ مند قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل امتحان اب معاہدے پر عمل درآمد، جوہری مذاکرات اور خطے کے مختلف فریقوں کے ردعمل میں پوشیدہ ہے، جو آنے والے مہینوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔