دفاعی و سیکیورٹی اخراجات کا بوجھ وفاق اور صوبے مشترکہ طور پر اٹھائیں گے، بلاول بھٹو
- یہ معاہدہ ایسے وقت میں قومی یکجہتی کا عکاس ہے جب ملک کو اپنی مغربی اور مشرقی دونوں سرحدوں پر سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، چیئرمین پی پی پی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ابھرتے ہوئے علاقائی سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دفاع اور قومی سلامتی سے متعلق غیر معمولی اخراجات کا بوجھ آئینی طریقہ کار کے تحت مشترکہ طور پر اٹھانے پر اتفاق کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی ماورائے آئین اقدام کے بجائے آئینی دفعات اور جمہوری اتفاقِ رائے کے ذریعے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دفاع اور قومی سلامتی کی غیر معمولی ضرورتوں کا بوجھ مل کر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس انتظام کو آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت گرانٹس (امدادی رقم) کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں قومی یکجہتی کا عکاس ہے جب پاکستان کو اپنی مغربی اور مشرقی دونوں سرحدوں پر سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اسے خطے کے لیے اُمید کی ایک نئی کرن اور اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری، جنگ و جدل سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے افغان سرحد پر سیکیورٹی خدشات، بھارت کی جانب سے آپریشن سندور 2 کی دھمکیوں، سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کو متنازع بنانے کی کوششوں اور پاکستان کو نشانہ بنانے والی بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ذکر کیا۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ملک بھر کی سیاسی قوتوں نے قومی سلامتی سے متعلق اخراجات پر اتفاقِ رائے پیدا کر کے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود اپوزیشن کی حکومت والے صوبے خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں نے اس میں اپنا حصہ ڈالنے پر اتفاق کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ سے قبل کی جانے والی ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا کہ اس فیصلے سے 18 ویں آئینی ترمیم، صوبائی حقوق یا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ برقرار رہے گا، جبکہ صوبے قومی سلامتی کی ضروریات کے لیے اپنا مالی تعاون پیش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب قوموں کا امتحان ہوتا ہے، پاکستان نے سیاسی اتفاقِ رائے اور جمہوری اقدار کے ذریعے جواب دیا ہے۔
پی پی پی کے سربراہ نے مؤقف اختیار کیا کہ 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے باوجود صوبوں کو اب بھی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ معاشی وعدوں کے تحت صوبائی حکومتوں کے لیے بجٹ سرپلس (بچت) برقرار رکھنا لازمی ہے، جس سے عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کی ان کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔
صوبوں کے مالی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے بلاول بھٹو نے بتایا کہ پنجاب نے اس سال 900 ارب روپے کا سرپلس دیا ہے، جبکہ سندھ نے تقریباً 400 ارب روپے کا سرپلس پیدا کیا ہے، یہ وہ فنڈز تھے جو ترقیاتی کاموں اور عوامی خدمات کے لیے استعمال کیے جا سکتے تھے۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ بجٹ کی منظوری کے بعد مل کر کام کریں، تاکہ پائیدار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر مرکوز ایک طویل مدتی، ترقیاتی معاشی حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔
بلاول نے بی آئی ایس پی کے لیے اپنی پارٹی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسے غربت کے خاتمے کا ایک مؤثر پروگرام قرار دیا، جس نے لاکھوں خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی ہے اور سماجی استحکام و قومی سلامتی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔