امریکا ایران امن معاہدے پر پیش رفت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 3 ماہ کی کم ترین سطح پر ریکارڈ
- برینٹ کروڈ کی قیمت میں 4.47 ڈالر یا 5.1 فیصد کی بڑی گراوٹ، 82.86 ڈالر فی بیرل پر آ گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت کی بحالی کے ابتدائی معاہدے کے اعلان کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔
گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 12:34 بجے برینٹ کروڈ کے سودے 4.47 ڈالر یا 5.1 فیصد کمی کے ساتھ 82.86 ڈالر فی بیرل پر آ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) 4.90 ڈالر یا 5.8 فیصد گراوٹ کے ساتھ 79.98 ڈالر پر ریکارڈ کیا گیا۔ جمعہ کے روز دونوں معاہدوں میں 3 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی تھی، جس کے بعد پیر کو یہ 10 مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔
ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو ٹول فری کھولا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں کا امریکی بحری محاصرہ بھی ختم کر دیا جائے گا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق معاہدے کے مسودے میں ایرانی انتظامات کے تحت 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تاماس ورگا کا کہنا ہے کہ اس اہم ترین آبی گزرگاہ سے بحران سے پہلے کی طرح روزانہ 2 کروڑ بیرل تیل کی سپلائی کی بحالی میں وقت لگے گا۔ آمدورفت کی مکمل بحالی کے تخمینے چند ہفتوں سے لے کر مہینوں تک مختلف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالیاتی سرمایہ کار فی الحال صرف مستقبل کی فزیکل سپلائی حاصل کر رہے ہیں، اسی لیے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی دیکھی جا رہی ہے۔ سپلائی کی سست بحالی کے نتیجے میں ممکنہ طور پر سال 2026 کے دوران سپلائی میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
دنیا بھر کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کے پانچویں حصے کی گزرگاہ، آبنائے ہرمز کے تین ماہ سے زائد عرصے تک جنگ کی وجہ سے بند رہنے سے دنیا لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی سپلائی سے محروم ہو چکی ہے۔
سرمایہ کار اس بات کا بھی گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے پیداواری ممالک جنگ سے ہونے والے نقصان کے بعد کتنی جلدی تیل کی پیداوار اور برآمدات بحال کر سکتے ہیں اور آیا خطے میں مزید بحری جہاز داخل ہوں گے یا نہیں۔
سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن نے کہا کہ اگر ہم جنگ سے پہلے برینٹ کی 60 سے 70 ڈالر کی حد کو دیکھیں تو میرا اندازہ ہے کہ قیمتوں کی نئی نچلی سطح (پرائس فلور) اب دسمبر اور جنوری کی 60 ڈالر کی سطح سے بڑھ کر مستقبل میں 75 یا 80 ڈالر تک جا سکتی ہے، جس میں مزید اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ایک وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ فوج سرحدوں اور اسرائیلی بستیوں کے تحفظ کے لیے لبنان، شام اور غزہ کے سیکیورٹی زونز میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی۔ ذرائع نے اس سے قبل روئٹرز کو بتایا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ، جو کہ ایک اور پیچیدہ مسئلہ ہے بعد میں ہونے والے انہی مذاکرات میں زیرِ بحث لایا جائے گا۔
آئی سی آئی ایس میں گلوبل آئل مارکیٹ کے سربراہ ڈیوڈ جوربنیز کے مطابق ایک معتبر معاہدے کے چند ہفتوں کے اندر آمدورفت کی جزوی بحالی اور چار سے چھ ماہ کے اندر تجارتی سرگرمیوں کی باقاعدہ بحالی دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازع سے پہلے کی طرح مکمل سپلائی کی بحالی حقیقت پسندانہ طور پر 2027 کی بات معلوم ہوتی ہے اور وہ بھی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب معاہدہ بغیر کسی خلل کے برقرار رہے اور پیداوار تیزی سے بحال ہو۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی پر مشتمل E4 ممالک نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے جواب میں اس پر عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے تیار ہیں۔