مارکٹس

بجٹ بحث : وزیر اطلاعات کا تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکسوں میں بڑے ریلیف پر اظہار خیال

  • قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث اگلے مرحلے میں داخل، حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ
شائع June 14, 2026 اپ ڈیٹ June 14, 2026 09:21pm

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اگلے مالی سال کا بجٹ ریلیف پر مبنی ہے اور اس میں معاشرے کے تمام طبقات کے مطالبات کا خیال رکھا گیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات نے ان خیالات کا اظہار قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کے بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ بجٹ کو ماہرینِ اقتصادیات اور رائے عامہ بنانے والوں سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی جانب سے تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بجٹ میں متعارف کرائے گئے مثبت اقدامات کا اعتراف اپوزیشن ارکان کو بھی کرنا چاہیے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ملک نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے معاشی استحکام میں تعاون پر چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی کریڈٹ دیا۔ ملکی معاشی منظرنامے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مضبوطی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دیا گیا ہے اور انہوں نے واضح کیا کہ یہ ریلیف پورے تنخواہ دار طبقے کے لیے ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 50,000 روپے ماہانہ تک کمانے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے، جبکہ 50,000 سے 100,000 روپے ماہانہ کمانے والوں پر صرف 1 فیصد ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔وزیر اطلاعات نے بجٹ میں برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) کو دیے گئے ریلیف کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ تعمیراتی شعبے کے لیے ریلیف کے ساتھ ساتھ ’اپنا گھر اسکیم‘ سے ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ ایف بی آر میں اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ایسا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان پر اب ان لوگوں کا بوجھ نہیں پڑے گا جو ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے حاجی جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بجٹ میں بلوچستان کی ترقی کو ترجیح دی جانی چاہیے اور کوئٹہ کے پانی کے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ شاہد احمد نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے امن و امان اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی اونچی قیمتوں کی وجہ سے کم آمدنی والے طبقات کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سید حسین طارق نے کہا کہ بے روزگاری سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی پالیسی اقدامات ضروری ہیں، انہوں نے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر بھی زور دیا۔ اسد قیصر نے کہا کہ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں کو ریلیف اور سبسڈیز دی جانی چاہئیں۔

اسد قیصر کے کچھ ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے یاد دلایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ن لیگ کے رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا۔ شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بجٹ میں نوجوانوں کے لیے کوئی ٹھوس چیز نظر نہیں آتی، انہوں نے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے (سرکولر ڈیٹ) پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ امیر ڈوگر نے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پانی کے ذخائر کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کرنے کی شرح بڑھائی جائے۔ شاہدہ بیگم نے کہا کہ حکومت غریب عوام کو ریلیف دینے کے لیے جی ایس ٹی میں کمی پر غور کرے۔

سید وسیم حسین نے کراچی کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کو حل کیا جانا چاہیے۔ سید وسیم احمد کے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حیدرآباد-سکھر موٹروے اگلے تین سے چار سالوں میں مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایم نائن کراچی-حیدرآباد کی نئی الائنمنٹ پر کام شروع ہو چکا ہے، جبکہ کے فور منصوبہ اس سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد صوبائی حکومت اس کے توسیعی کام انجام دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے گرانٹ بھی فراہم کی ہے۔