کھیل

کرکٹر پر پولیس تشدد: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا تحقیقات کا مطالبہ

تحقیقات تک تین اہلکاروں کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے، پولیس کی تصدیق
شائع June 13, 2026 اپ ڈیٹ June 13, 2026 06:07pm

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ہفتے کو حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں اور کارروائی کریں جس میں ایک ٹیسٹ کرکٹر نے پولیس کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام لگایا ہے۔

14 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے آف اسپنر نعیم حسن نے بتایا کہ وہ جمعہ کی رات تقریباً بارہ بجے رکشے میں گھر جا رہے تھے کہ چٹاگانگ شہر میں پولیس نے انہیں روکا اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر انتہائی تشویش میں مبتلا ہے، انہوں نے ایک مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان الزامات کے بعد پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مزید تحقیقات تک تین اہلکاروں کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

نعیم حسن نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ بنگلہ دیش کے دوسرے بڑے شہر چٹاگانگ میں ڈھاکا پریمیئر لیگ کا میچ کھیلنے کے بعد اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔

نعیم حسن نے صحافیوں کو بتایا کہ میں (رکشے سے) نیچے اترا اور ان سے کہا کہ میرا بیگ چیک کر لیں لیکن پولیس کے ایک اہلکار نے مجھ سے کہا کہ گاڑی میں بیٹھ جاؤ، تم ایک ملزم ہو۔

26 سالہ کرکٹر نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کا گلا پکڑا، انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور پائپ سے تشدد کا نشانہ بنایا حالانکہ انہوں نے بار بار اپنی شناخت بطور بنگلہ دیشی قومی کھلاڑی کروائی تھی۔

انہوں نے بتایاکہ تھانے لانے کے بعد آفیسر انچارج نے مجھ سے کہا کہ اپنی نظریں نیچے رکھو، نظریں نیچی کر کے بات کرو۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ پولیس اہلکاروں نے نعیم کے خلاف یہ کارروائی کیوں کی۔

بی سی بی نے کہا کہ وہ “ھلاڑی کے ساتھ کیے گئے ناقابل قبول اور نامناسب رویے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

قومی ایتھلیٹ کے ساتھ ایسا سلوک انتہائی افسوسناک ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

بی سی بی نے مزید کہا کہ وہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی توقع رکھتا ہے اور متعلقہ حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔

کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔