خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی جہازوں پر حملوں کے بڑھتے واقعات کے بعد بھارت نے نئی دہلی میں امریکی ناظم الامور جیسن میکس کو دوسری بار طلب کرلیا ۔ 10 جون کو حملے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت کے بعد جمعرات کی رات ایک اور جہاز پر حملہ ہوا جس پر بھارتی عملہ سوار تھا۔

بھارت نے جمعہ کو امریکی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا اور خلیجی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب صرف چار روز کے دوران بھارتی عملے کے حامل تین مختلف تجارتی جہاز حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔

تازہ ترین واقعہ جمعرات کی رات پیش آیا جب ایم وی جال ویر نامی ٹینکر پر عمان کی شیناس بندرگاہ کے قریب حملہ کیا گیا۔ گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے اس جہاز کے عملے میں 20 بھارتی شامل تھے۔

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے تبصرہ کرنے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

نئی دہلی اور واشنگٹن نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایک قریبی اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی ہے اور بھارت کا احتجاج درج کرانے کے لیے کسی امریکی سفارت کار کو طلب کرنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران دباؤ کا شکار رہے ہیں جنہیں واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف (محصولات) اور نئی دہلی کے حریف ممالک، پاکستان اور چین کے ساتھ امریکی رابطوں نے بری طرح متاثر کیا ہے۔

ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت کا یہ واقعہ فرانس میں ہونے والے گروپ آف 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات سے چند روز قبل پیش آیا ہے۔