دنیا

تھائی بادشاہ کی بڑی صاحبزادی 47 برس کی عمر میں چل بسی

  • شہزادی باجراکیتیابھا نریندرا دیبیاوتی گزشتہ تقریباً چار برس سے شدید علالت کے باعث کومے میں تھیں
شائع June 12, 2026 اپ ڈیٹ June 12, 2026 03:22pm

تھائی لینڈ کے شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے بادشاہ کنگ مہا وجیرالونگ کورن کی سب سے بڑی صاحبزادی شہزادی باجراکیتیابھا نریندرا دیبیاوتی 47 برس کی عمر میں انتقال کرگئی ہیں۔ وہ گزشتہ تقریباً چار برس سے شدید علالت کے باعث کومے میں تھیں اور مختلف طبی مسائل کا سامنا کر رہی تھیں۔

شاہی محل کے مطابق شہزادی کو دسمبر 2022 میں شمال مشرقی صوبے ناخون راتچاسیما کے دورے کے دوران اچانک دل کی بیماری کے باعث بے ہوشی کا دورہ پڑا تھا۔ اس کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے فوری طور پر دارالحکومت بنکاک منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری رہا۔

محل کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جمعرات کی شام ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔ انہیں پیٹ کے اندر شدید انفیکشن، آنتوں کی سوزش، کم بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور خون جمنے سے متعلق پیچیدگیوں کا سامنا تھا، جن کے باعث وہ انتقال کر گئیں۔

شاہی محل نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

شہزادی باجراکیتیابھا،جنہیں عام طور پر پرنسس پا کے نام سے جانا جاتا تھا 7 دسمبر 1978 کو اس وقت کے ولی عہد وجیرالونگ کورن اور ان کی پہلی اہلیہ شہزادی سوامساولی کے ہاں پیدا ہوئیں۔

تھائی لینڈ میں انہیں عوامی خدمات، خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام اور سفارتی ذمہ داریوں کی وجہ سے خاص طور پر یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے امریکا کی کارنیل یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی، جہاں سے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں 2006 سے 2011 تک تھائی لینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں بطور وکیل خدمات انجام دیں۔

سال 2012 سے 2014 کے دوران انہوں نے آسٹریا، سلووینیا اور سلوواکیہ میں تھائی لینڈ کی سفیر کے طور پر فرائض سرانجام دیے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ بنکاک میں اٹارنی جنرل کے دفتر سے وابستہ ہو گئیں۔

شہزادی نے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا تھا جو خواتین قیدیوں، خصوصاً جیل میں حاملہ خواتین کے حقوق اور ان کی فلاح کے لیے کام کرتا تھا۔

2017 میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسداد جرائم اور فوجداری انصاف نے انہیں جنوب مشرقی ایشیا میں قانون کی حکمرانی کے لیے خیرسگالی سفیر مقرر کیا تھا۔

2021 میں انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی جہاں انہیں جنرل کا عہدہ دیا گیا اور وہ رائل سیکیورٹی کمانڈ میں چیف آف اسٹاف کے طور پر بھی خدمات انجام دیتی رہیں۔

تھائی لینڈ کے آئین کے مطابق شہزادی باجراکیتیابھا بادشاہ کی ان تین اولاد میں شامل تھیں جنہیں باضابطہ شاہی حیثیت حاصل تھی اور جو تخت کے جانشین بننے کی اہل سمجھی جاتی تھیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں تھائی لینڈ کی ملکہ والدہ کا بھی 93 برس کی عمر میں انتقال ہوا تھا۔

اب شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ شہزادی کی شاہی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی جائیں گی، جبکہ حکومت کی جانب سے قومی سوگ کی مدت کا اعلان کیے جانے کی بھی توقع ہے۔