کاروبار اور معیشت

چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم، پی ٹی بی اے نے قانونی اور پروسیجرل خدشات اٹھا دیے

  • ایسوسی ایشن کا وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو باضابطہ خط ارسال
شائع June 11, 2026 اپ ڈیٹ June 11, 2026 01:15pm

پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو باضابطہ طور پر خط لکھا ہے جس میں ٹیکس سال 2026 کے لیے چھوٹے دکانداروں کیلئے حال ہی میں اعلان کردہ فکسڈ ٹیکس اسکیم (ایف ٹی ایس) سے متعلق قانونی اور طریقہ کار کے خدشات اٹھائے گئے ہیں۔

5 جون 2026 کو وفاقی وزیرِ خزانہ نے ایک پریس کانفرنس میں ٹیکس سال 2026 کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا اعلان کیا جو سالانہ 20 کروڑ روپے تک کے کاروباری حجم رکھنے والے چھوٹے تاجروں کو ہدف بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک سنگل پیج انکم ٹیکس ریٹرن کا ڈرافٹ بھی پیش کیا گیا۔ اگرچہ پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے اس اقدام کو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور معاشرے کے ان طبقات میں ٹیکس کلچر فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جو تاریخی طور پر ٹیکس نظام سے باہر رہے ہیں، تاہم اس نے کئی اہم ابہامات کی نشاندہی بھی کی ہے جن کی باقاعدہ اور حتمی وضاحت اس اسکیم کے مکمل نفاذ سے قبل ضروری ہے۔

پی ٹی بی اے کی پہلی اور بنیادی تشویش شاپ کیپر اور اسمال شاپ کیپر کی غیر واضح تعریف سے متعلق ہے۔ چونکہ ان دونوں اصطلاحات کی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں کوئی واضح تعریف موجود نہیں، اس لیے یہ ابہام برقرار ہے کہ آیا ہول سیلرز، ریٹیلرز، ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز، تاجران اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں مصروف افراد اس اسکیم کے دائرہ کار میں آتے ہیں یا نہیں۔

پی ٹی بی اے نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی وسیع تشریح کی گئی تو انکم ٹیکس آرڈیننس کی اہم قانونی شقیں، بشمول سیکشن 153 (7) (h) اور (i)، ٹیکس دہندگان کی ایک بڑی تعداد کے لیے مؤثر طور پر غیر فعال ہو سکتی ہیں جس سے سنگین قانونی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔

پی ٹی بی اے نے اس بات پر بھی وضاحت طلب کی کہ آیا یہ اسکیم صرف ٹیکس سال 2026 تک ہی محدود ہے اور کیا یکم جولائی 2026 سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی تمام دفعات (پروویژنز) اس اسکیم میں شامل ہونے والے افراد پر کسی بھی مسلسل استثنیٰ (ایگزیمپشنز)، رعایتوں یا بقایا فوائد کے بغیر خود بخود اور مکمل طور پر لاگو ہو جائیں گی۔

پی ٹی بی اے نے کریڈٹ کارڈ یا پی او ایس مشینیں استعمال کرنے والے ٹیکس دہندگان کو اس اسکیم کے دائرہ کار سے باہر رکھنے کی بھی نشان دہی کی ہے اور اسے ممکنہ طور پر نقصان دہ قرار دیا ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ دستاویزی اور الیکٹرانک ذرائع سے لین دین کرنے والے کاروبار کو سزا دینا، جبکہ نقد (کیش) کی بنیاد پر کاروبار کرنے والے تاجروں کو اسکیم کے فوائد فراہم کرنا، حکومت کے اپنے ہی بیان کردہ دستاویزی لین دین کی حوصلہ افزائی کے ہدف کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے اس اخراج پر نظرثانی کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت، حصہ لینے والوں کے لیے لازم ہے کہ وہ پہلے سے وضع کردہ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد اپنے ٹرن اوور پر 1 فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کریں جو کہ ٹیکس سال 2025 میں ادا کردہ ٹیکس یا 25,000 روپے ان میں سے جو بھی زیادہ ہو، کے کم از کم ٹیکس کے مشروط ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026