دنیا

بیلفاسٹ میں چاقو حملے کے بعد تارکینِ وطن مخالف پرتشدد فسادات

  • پولیس کے مطابق سینکڑوں مظاہرین، جن میں سے کئی نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، مختلف علاقوں میں جمع ہوئے اور پولیس پر حملے کیے
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 03:01pm

شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک سوڈانی شہری کے چاقو حملے کے بعد تارکینِ وطن مخالف پرتشدد مظاہروں نے شدت اختیار کر لی۔ منگل کی شب نقاب پوش افراد نے متعدد گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی جبکہ کئی خاندانوں کو اپنے گھروں سے فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

پولیس کے مطابق سینکڑوں مظاہرین، جن میں سے کئی نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، مختلف علاقوں میں جمع ہوئے اور پولیس پر حملے کیے۔ سوشل میڈیا پر چاقو حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ حملے میں ایک شخص شدید زخمی ہوا تھا جس کی گردن اور سر پر گہرے زخم آئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکار ایک جلتے ہوئے گھر سے خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔ مقامی سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں کے مطابق حملوں کا نشانہ بننے والے بیشتر افراد سیاہ فام تھے۔

شمالی آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر مشل او نیل نے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نقاب پوش افراد کا خاندانوں کو گھروں سے نکال کر ان کی رہائش گاہوں کو نذرِ آتش کرنا انتہائی بزدلانہ اور قابلِ نفرت عمل ہے۔

ادھر برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے ابتدائی چاقو حملے کو دل دہلا دینے والا قرار دیا۔ پولیس نے 30 سالہ سوڈانی شہری پر اقدامِ قتل، عوامی مقام پر چاقو رکھنے اور قتل کی دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔

فسادات کے دوران شہر کے مختلف حصوں میں متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ ایک بس بھی نذرِ آتش ہو گئی۔ مقامی میڈیا کے مطابق مشتعل ہجوم نے گھروں کے دروازے توڑے اور کھڑکیاں بھی نقصان پہنچائیں۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نفرت انگیزی اور اشتعال انگیز مہمات کا حصہ نہ بنیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔