دنیا

توانائی بحران نے صاف توانائی کی جانب تیز منتقلی کی ضرورت اجاگر کر دی

  • فوسل فیول پر مسلسل انحصار کا مطلب مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کو درآمد کرنا ہے، سائمن اسٹیل
شائع June 9, 2026 اپ ڈیٹ June 9, 2026 02:44pm

اقوام متحدہ کے موسمیاتی عہدیداروں نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تیل کے بحران نے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے اور صاف توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے۔

جرمنی کے شہر بون میں پیر کو ہونے والی موسمیاتی کانفرنس میں، جو نومبر میں ترکی میں منعقد ہونے والے کوپ 31 سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے، عالمی مذاکرات کاروں نے توانائی اور موسمیاتی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں شروع ہوا جب ایران اور اسرائیل کے درمیان نئے حملوں نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ سائمن اسٹیل نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے رہی ہے بلکہ فوسل فیول کی قیمتوں کے بحران کو بھی بڑھا رہی ہے، جو دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوسل فیول پر مسلسل انحصار کا مطلب مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کو درآمد کرنا ہے، اس لیے صاف توانائی کی جانب تیز رفتار پیش رفت ناگزیر ہو چکی ہے۔

کوپ 31 کے صدر اور مورات کرم نے کہا کہ دنیا بیک وقت کئی بحرانوں اور غیر مستحکم توانائی منڈیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ صورتحال نے فوسل فیول درآمدات پر انحصار کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔