امن کو ایک اور موقع دیا جائے، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر وزیراعظم کی تحمل کی اپیل
- تشدد میں اضافہ نازک جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں تشدد کے حالیہ پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ جنگ بندی کی نازک صورتحال سنگین نتائج کا سبب بن سکتی اور پائیدار امن کے حصول کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری کردہ ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ تشدد کی حالیہ لہر اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ ایک کمزور جنگ بندی کے ساتھ کس قدر خطرات جڑے ہوتے ہیں اور اگر دشمنی میں شدت آئی تو اس کے کتنے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا جب ہم اپنے برادر ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پرامن سفارتی حل کے لیے خلوصِ نیت اور انتھک کوششیں کر رہے ہیں اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب حتمی ہدف حاصل ہونے کے بالکل قریب ہے، ہم تمام فریقین سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن کو ایک اور موقع دیں۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہے اور انہوں نے ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو امن کی طرف بڑھتی ہوئی پیش رفت کو پٹری سے اتار سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے پر کاربند رہیں، کیونکہ یہ راستہ تشدد اور تباہی کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشن امکانات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئیں ہم تشدد اور تباہی کے بجائے امن اور سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہیں، جس میں کامیابی کے واضح امکانات موجود ہیں۔
وزیراعظم کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تحمل کی اپیل کے باوجود ایران اور اسرائیل کے درمیان اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار باقاعدہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
کشیدگی کی اس تازہ لہر میں دیکھا گیا کہ ہفتے کے روز بیروت کے جنوبی مضافات پر ہونے والے فضائی حملے کے جواب میں جب تہران نے اسرائیل کو نشانہ بنایا تو اسرائیل نے بھی جواباً ایران پر حملے کیے۔ اسرائیل نے لبنانی دارالحکومت پر یہ حملہ گزشتہ ہفتے امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے منصوبے کے اعلان کے باوجود کیا۔
لبنان کے لیے جنگ بندی کے معاہدے اسرائیل کی تیز تر فوجی کارروائیوں کی وجہ سے امن قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جن میں فضائی حملے، بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے جبری احکامات اور تاریخی بوفورٹ قلعے پر اسرائیلی قبضہ شامل ہے۔