سی پیک 2.0: بلند عزائم اور معاشی حقائق کا سامنا
- سی پیک کے پہلے مرحلے کو معقول حد تک ایک مشروط کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے پاکستان کے بعض اہم ترین بنیادی ڈھانچے کے مسائل حل کیے
- سی پیک 1.0 نے یہ ثابت کر دیا کہ صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کسی معیشت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ سی پیک 2.0 اسی سبق کو مدنظر رکھتے ہوئے پیداواریت، برآمدات اور صنعتی ترقی پر زور دیتا ہے
جغرافیائی سیاسی عوامل کے پاکستان-چین شراکت داری پر بڑھتے ہوئے اثرات کے ساتھ، سی پیک سے وابستہ معاشی بیانیہ اپنی ابتدائی رفتار کا بڑا حصہ کھو بیٹھا۔ یہ راہداری، جو کبھی غیر معمولی اقتصادی تعاون کی علامت سمجھی جاتی تھی، سکیورٹی خدشات، قرضوں سے متعلق مباحث اور بدلتی ہوئی علاقائی ترجیحات کے باعث بتدریج پس منظر میں چلی گئی۔
تاہم اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان حالیہ رابطے معیشت پر ازسرِنو توجہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی تعاون، زرعی جدیدکاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے باہمی تعلقات کو نئی توانائی دینے کے خواہاں ہیں۔ تاہم یہ سوال اب بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ آیا یہ نیا وژن حقیقی معاشی فوائد فراہم کر سکے گا یا نہیں۔ اس کا انحصار بڑی حد تک چینی سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے طریقہ کار اور پاکستان کی اپنی معاشی اصلاحات پر ہوگا۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے پہلے مرحلے میں نمایاں بنیادی ڈھانچہ تو تعمیر ہوا، لیکن وہ معاشی تبدیلی رونما نہ ہو سکی جس کا ابتدائی طور پر تصور پیش کیا گیا تھا۔
سی پیک کے آغاز کے تقریباً ایک عشرے بعد پاکستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اب ملک سڑکوں اور بجلی گھروں کی تعمیر سے آگے بڑھ کر پیداواریت، برآمدات اور صنعتی مسابقت میں اضافے کا خواہاں ہے۔
سی پیک کے پہلے مرحلے کو معقول حد تک ایک مشروط کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے پاکستان کے بعض اہم ترین بنیادی ڈھانچے کے مسائل حل کیے۔
ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا، تاہم صارفین کی ادائیگی کی استطاعت کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔ آج ملک کے پاس بجلی پیدا کرنے کی خاطر خواہ صلاحیت موجود ہے، لیکن طلب کم ہونے کے باعث اس صلاحیت کا بڑا حصہ غیر استعمال شدہ پڑا ہے۔
اسی طرح قومی شاہراہوں کے بڑے منصوبوں نے ملک کے شمالی اور جنوبی علاقوں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنایا، جبکہ گوادر بندرگاہ کی ترقی نے پاکستان کو ایک اہم تزویراتی بحری اثاثہ فراہم کیا۔
تاہم متعدد خصوصی اقتصادی زونز کی پیش رفت سست روی کا شکار رہی، سی پیک کے دائرہ کار سے باہر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہی، اور پاکستان کی صنعتی مسابقت میں بھی خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مجموعی معاشی ماحول بگڑتا گیا۔ پاکستان کو بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، متعدد مرتبہ آئی ایم ایف کے امدادی پروگراموں سے رجوع کرنا پڑا اور بیرونی قرضوں کی بھاری ذمہ داریاں اٹھانا پڑیں۔ اگرچہ عوامی سطح پر ’’چینی قرضوں کے جال‘‘ کا بیانیہ اکثر مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کثیرالجہتی اداروں، تجارتی قرضوں اور دوطرفہ واجبات پر مشتمل پاکستان کا مجموعی قرض بوجھ مالی گنجائش کو شدید حد تک محدود کر چکا ہے۔
یہ پس منظر واضح کرتا ہے کہ سی پیک 2.0 کو اپنے پیش رو منصوبے سے بنیادی طور پر مختلف ہونا ہوگا۔
خود چین بھی اب بڑے پیمانے کے بیرونِ ملک بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بھاری قرضوں پر مبنی انتظامات کے ذریعے مالی معاونت فراہم کرنے میں پہلے جیسی دلچسپی نہیں رکھتا۔ بیجنگ کی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔
ترقی پذیر دنیا میں چین اب بتدریج نسبتاً چھوٹے، تجارتی طور پر قابلِ عمل اور آمدن پیدا کرنے والے منصوبوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت وسیع پیمانے پر بنیادی ڈھانچے پر اخراجات کا دور اب زیادہ محتاط اور منتخب حکمتِ عملی میں تبدیل ہو چکا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ تبدیلی درحقیقت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
سی پیک 2.0 کے تحت جن شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے، زرعی جدیدکاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعتی تعاون، معدنیات کی ترقی اور برآمدات پر مبنی خصوصی اقتصادی زونز، وہی شعبے ہیں جو اگر پیشہ ورانہ انداز میں چلائے جائیں تو پائیدار معاشی فوائد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
زراعت پاکستان میں روزگار فراہم کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہے، لیکن یہ کم پیداواریت، پانی کے غیر مؤثر استعمال اور کم ویلیو ایڈیشن جیسے مسائل کا شکار ہے۔ زرعی ٹیکنالوجی، بیجوں کی تیاری، مشینی کاشتکاری اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں چینی مہارت پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
اسی طرح پاکستان کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا آئی ٹی شعبہ ایسے مواقع فراہم کرتا ہے جو 2015 میں سی پیک کے آغاز کے وقت موجود نہیں تھے۔ بجلی گھروں اور شاہراہوں کے برعکس، آئی ٹی برآمدات کے لیے نسبتاً کم سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، جبکہ یہ قیمتی زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
صنعتی تعاون شاید سی پیک 2.0 کا سب سے اہم جزو ہے۔ چین میں بڑھتی ہوئی مزدوری لاگت کے باعث کم لاگت والی مینوفیکچرنگ صنعتیں متبادل مقامات کی تلاش میں ہیں۔ ویتنام، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے ممالک اس تبدیلی سے غیر معمولی فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
پاکستان کو امید ہے کہ سی پیک 2.0 کے ذریعے وہ بالآخر چینی صنعتوں کی منتقلی کے لیے ایک پرکشش مرکز بن سکے گا۔ تاہم اس مقصد کے حصول کی راہ میں کئی سنگین رکاوٹیں موجود ہیں۔
پہلا چیلنج آئی ایم ایف کی نگرانی ہے۔ آج پاکستان کی معاشی پالیسیاں مالیاتی نظم و ضبط، سبسڈی میں اصلاحات اور قرضوں کی پائیداری کے اصولوں کے تحت چل رہی ہیں۔ اس لیے قرض لینے کا کوئی بھی بڑا پروگرام، خواہ اس کا ذریعہ کوئی بھی ہو، سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرے گا۔ نتیجتاً سی پیک 2.0 اس قرض پر مبنی ماڈل پر انحصار نہیں کر سکتا جو ابتدائی منصوبوں کی نمایاں خصوصیت تھا۔
دوسرا چیلنج سرمایہ کاروں کا اعتماد ہے۔ چینی کمپنیاں بھی دیگر سرمایہ کاروں کی طرح پالیسیوں میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت چاہتی ہیں۔ پالیسیوں میں عدم تسلسل، ٹیکس تنازعات، کرنسی کی قدر میں کمی، بیوروکریٹک تاخیر اور سکیورٹی خدشات اب بھی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
تیسرا چیلنج توانائی کی لاگت ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سی پیک کے توانائی منصوبوں کے غیر ارادی نتائج میں استعداد ادائیگیوں ( کیپسٹی پیمنٹس) کا بڑھتا ہوا بوجھ بھی شامل ہے، جو بجلی کے بلند نرخوں کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان کا صنعتی شعبہ اس وقت توانائی کی ایسی لاگت کا سامنا کر رہا ہے جو اکثر علاقائی حریف ممالک سے زیادہ ہے۔
چوتھا چیلنج طرزِ حکمرانی ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے بیرونی مالی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن ادارہ جاتی کارکردگی باہر سے درآمد نہیں کی جا سکتی۔
خصوصی اقتصادی زونز کی کامیابی کا انحصار ضابطہ جاتی اصلاحات، منظوریوں کے تیز تر نظام، معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد اور سرمایہ کار دوست کاروباری ماحول پر ہے۔ یہ تمام ذمہ داریاں بنیادی طور پر پاکستان کو خود پوری کرنا ہوں گی۔
شاید سی پیک 2.0 کے حق میں سب سے مضبوط دلیل جغرافیائی سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی سپلائی چینز تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں اور علاقائی روابط کی تزویراتی اہمیت بڑھ رہی ہے، پاکستان ایک منفرد جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے جو چین، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ عرب کو آپس میں ملاتا ہے۔ اگر پاکستان کو علاقائی تجارتی راہداریوں، لاجسٹکس نیٹ ورکس اور صنعتی مراکز کے ساتھ مؤثر انداز میں جوڑ دیا جائے تو وہ محض ایک ٹرانزٹ روٹ سے بڑھ کر پیداوار اور برآمدات کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
بالآخر سوال یہ نہیں کہ آیا سی پیک 2.0 حقیقت پسندانہ منصوبہ ہے یا نہیں۔ بلاشبہ یہ ایک قابلِ عمل تصور ہے۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسے کامیاب بنانے کے لیے درکار مشکل لیکن ناگزیر اصلاحات نافذ کرنے کے لیے تیار ہے؟
سی پیک 1.0 نے یہ ثابت کر دیا کہ صرف بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کسی معیشت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ سی پیک 2.0 اسی سبق کو مدنظر رکھتے ہوئے پیداواریت، برآمدات اور صنعتی ترقی پر زور دیتا ہے۔ تاہم سڑکوں اور بجلی گھروں کے برعکس، یہ اہداف محض مالیاتی معاہدوں اور حکومتی اعلانات کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
لہٰذا سی پیک کے مستقبل کا انحصار اس بات پر کم ہوگا کہ چین کیا فراہم کرتا ہے اور اس بات پر زیادہ ہوگا کہ پاکستان اپنے سامنے موجود مواقع سے کس حد تک فائدہ اٹھاتا ہے۔ اگر چینی تعاون کے ساتھ ساتھ ساختی معاشی اصلاحات بھی نافذ کی گئیں تو سی پیک 2.0 وہ معاشی مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے جسے سی پیک 1.0 مکمل طور پر حاصل نہ کر سکا۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو یہ بھی ایک ایسے بلندپرواز منصوبے میں تبدیل ہو سکتا ہے جو اندرونی کمزوریوں اور دیرینہ مسائل کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026