پاکستان اور سعودی عرب نے سرمایہ کاری کے متعدد معاہدوں کو حتمی شکل دے دی
- بندرگاہوں کی ترقی اور موٹر وے انفرااسٹرکچر میں تعاون کیلئے مفاہمت طے پا گئی، حکام
پاکستان اور سعودی عرب نے اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا جس کے تحت پاک۔ سعودی جوائنٹ بزنس کونسل کے دو روزہ اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے انفرااسٹرکچر، بندرگاہوں، موٹر ویز، رئیل اسٹیٹ اور معدنیات کی ترقی پر محیط سرمایہ کاری کے متعدد معاہدوں کو حتمی شکل دے دی۔
یہ معاہدے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور جوائنٹ بزنس کونسل کی میزبانی میں ہونے والی دو روزہ سعودی-پاکستان بزنس انگیجمنٹ کے دوران طے پائے۔
ان معاہدوں کو پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کی آمد کو تیز کرنے اور بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) شراکت داری کو مضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق بندرگاہوں کی ترقی اور موٹر وے انفرااسٹرکچر میں تعاون کیلئے مفاہمت طے پا گئی ہے جس میں حیدرآباد-کراچی موٹر وے کی تعمیر سے متعلق معاہدہ بھی شامل ہے، یہ طویل عرصے سے التوا کا شکار ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) رابطہ منصوبہ ہے جس کا مقصد لاجسٹکس اور تجارتی آمد و رفت کو بہتر بنانا ہے۔
اس کے علاوہ رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اور معدنیات کے شعبے میں بھی مزید معاہدے حتمی شکل دیے گئے جو پاکستان کے وسائل اور انفرااسٹرکچر کے مواقع میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ ان معاہدوں پر سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز کی موجودگی میں دستخط کیے گئے جبکہ سعودی عرب کی جانب سے شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے معاہدوں پر دستخط کیے۔
اس بزنس فورم کی مشترکہ صدارت سابق نگران وزیر گوہر اعجاز اور پاکستان-سعودی جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین فواد مختار نے کی جبکہ سعودی وفد کی قیادت پاکستان-سعودی بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن آل سعود نے کی۔
وفاقی وزیرِ پٹرولیم مصدق ملک، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک اور نجکاری کے مشیر محمد علی نے بھی سرکاری حکام اور کاروباری رہنماؤں کے ہمراہ ان اجلاسوں میں شرکت کی۔
حکام نے بتایا کہ سعودی سرمایہ کاروں کو توانائی، انفرااسٹرکچر، کان کنی اور صنعتی ترقی سمیت مختلف اہم شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع پر بریفنگ دی گئی۔ پاکستان اور سعودی کمپنیوں کے درمیان علیحدہ بی ٹو بی ملاقاتیں بھی منعقد کی گئیں تاکہ شراکت داری کے امکانات تلاش کیے جا سکیں جبکہ مستقبل کے سرمایہ کاری فریم ورک کو سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر بھی اجلاس منعقد ہوئے۔
سیکٹرل پریزنٹیشنز کے دوران سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے پاور سیکٹر کے منصوبوں بشمول ٹرانسمیشن لائنز اور اسمارٹ میٹرنگ اقدامات میں شرکت کی دعوت دی گئی جبکہ حکام نے توانائی شعبے میں اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے سے جڑے مواقع پر روشنی ڈالی۔
سرمایہ کاروں کو پٹرولیم، کان کنی اور معدنیات کی ترقی کے شعبوں میں بھی مواقع سے آگاہ کیا گیا جنہیں اسلام آباد طویل المدتی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کلیدی شعبے قرار دیتا ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے کہا کہ سعودی سرمایہ کار پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاری کے منظر نامے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب دوطرفہ سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فعال طور پر فروغ دے رہے ہیں، سعودی سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی ترقی کے سفر کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش منافع فراہم کرتا ہے اور حکومت بیرون ملک سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولتیں اور مراعات فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نہ صرف ایک مضبوط دفاعی طاقت بلکہ ایک مضبوط اقتصادی قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ معاہدے پاکستان کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کے ذریعے خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی روابط کو عملی سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جا رہا ہے، خاص طور پر انفرااسٹرکچر، توانائی، کان کنی اور لاجسٹکس جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں، تاکہ معاشی استحکام اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ کو بہتر بنایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026