حکومت سے ایس ایم ای سیکٹر کو فروغ دینے کا مطالبہ
اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ آئندہ بجٹ میں اصلاحات متعارف کرائے تاکہ پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبے کو مضبوط بنایا جاسکے۔
ڈائریکٹر سمیڈا مشہود خان نے بندرگاہی چارجز، برآمدی سہولت، ٹیکس میں ریلیف اور توانائی کی لاگت سے متعلق متعدد اہم تجاویز پیش کیں تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی کاروبار کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
سمیڈا نے ضرورت سے زیادہ وہارفج اور پورٹ ہینڈلنگ چارجز کو چھوٹے کاروباروں پر ایک بڑا بوجھ قرار دیتے ہوئے کراچی پورٹ ٹرسٹ ، پورٹ قاسم اتھارٹی اور گوادر پورٹ پر یکساں چارجز کے نظام کا مطالبہ کیا۔
اتھارٹی نے مصنوعی خام مال کی قلت اور مقامی ڈسٹری بیوٹرز کی جانب سے بلاجواز قیمتوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ مارکیٹ کے طریقۂ کار کی نگرانی کرے اور سپلائی چین کے استحکام کو یقینی بنائے۔
برآمدات کے محاذ پر سمیڈا نے سفارش کی کہ جی سی سی ممالک، یورپ اور آسٹریلیا میں تعینات کمرشل اتاشی چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کو بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ جوڑنے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
اس نے حکومت کے تعاون سے ’ایکسپورٹ کنسولیڈیشن پروگرامز‘ (برآمدات کو یکجا کرنے کے پروگرام) شروع کرنے کی تجویز بھی دی۔
سمیڈا نے مینوفیکچررز کو آٹوموٹو کی عالمی سپلائی چین تک رسائی میں مدد فراہم کرنے کے لیے بجٹ میں خصوصی سبسڈیز دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026