امریکہ۔ایران امن معاہدے پر غیریقینی، خام تیل کی قیمتیں مستحکم
- برینٹ خام تیل کے سودے 21 سینٹ یا 0.22 فیصد کمی کے بعد 95.24 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو معمولی تبدیلی کے ساتھ مستحکم رہیں، تاہم گزشتہ سیشن میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں سست روی کے باعث تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 21 سینٹ یا 0.22 فیصد کمی کے بعد 95.24 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 10 سینٹ یا 0.11 فیصد کمی کے ساتھ 92.94 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ اس سے قبل جمعرات کو دونوں بینچ مارکس میں تقریباً تین فیصد تک کمی دیکھی گئی تھی۔
اس کے باوجود دونوں معاہدے گزشتہ تین ہفتوں میں پہلی بار ہفتہ وار بنیادوں پر اضافے کی جانب گامزن ہیں اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران چھ فیصد سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت کو قرار دیا جا رہا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
ادھر لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مجوزہ جنگ بندی معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی بنیادی شرط ہوگی۔
دوسری جانب اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیص نے کہا ہے کہ تنظیم رواں سال تیل کی طلب میں یومیہ 12 لاکھ بیرل اضافے کی اپنی پیش گوئی برقرار رکھے ہوئے ہے، حالانکہ خطے میں تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے خدشات موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کے ذخائر میں کمی اور ایران کی تیل برآمدات میں چھ برس کی کم ترین سطح تک گراوٹ تیسری سہ ماہی میں قیمتوں میں دوبارہ تیزی کا باعث بن سکتی ہے۔